ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کا اعتراف جرم سے انکار

 قتل کا معلوم ہی نہیں تھا،تفتیشی افسر نے موبائل  لے لیا تھا، میرے خلاف مکمل پلانٹڈ کیس ہے:ملزم
 موبائل فرانزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، کیا کہیں گے:جج  افضل مجوکہ کا ملزم سے  استفسار 
اسلام آباد( آن لائن) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آبادمیں ثناء￿  یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات کا 342کا بیان قلمبندکراتے ہوے کہاہے  کہ میں نے قتل کرنے کا کوئی اعتراف نہیں کیا، کوئی انکشاف نہیں کیا، پولیس نے فیملی کو زبردستی کہا کہ آپ کا مجرم عمر حیات ہی ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آبادمیں ثناء￿  یوسف قتل کیس کی سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر نوید حسین عدالت میں پیش  ہوئے، ملزم عمر حیات کو بھی عدالت پہنچا یاگیا۔ملزم عمر حیات کا دفعہ 342کے تحت بیان ریکارڈ ہونا شروع ہو گیا، جج افضل مجوکہ نے ملزم سے استفسار کیا کہ تم نے میرے سوال کا  جواب مجھے دینا ہے یانہیں؟عدالت کی جانب سے تفتیش کے حوالے سے بھی ملزم عمر حیات سے سوالات کئے گئے۔جج افضل مجوکہ نے کہاکہ دوران تفتیش ثناء￿  یوسف کے فون سے کاکاکے نام سے ایک نمبر سامنے آیا،جج افضل مجوکہ نے ملزم سے استفسار کیاکہ موبائل فرانزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، کیا کہیں گے؟جج افضل مجوکہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ 342کا بیان جج اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،ملزم عمر حیات نے کہاکہ میں وکیل کے بغیر جواب نہیں دے سکتا، جج افضل مجوکہ کی جانب سے عمر حیات کا اعترافی بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا