لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول: تاریخی سڑکوں اور گزرگاہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ

لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول: تاریخی سڑکوں اور گزرگاہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس “لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول (لہر)” میں شہر کی قدیمی شناخت بحال کرنے کے لیے متعدد بڑے فیصلے کیے گئے۔

لاہور کی سڑکوں اور گلیوں کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ۔
یونیورسٹی کے درجہ پانے والے سرکاری کالجز کے نام اصل حالت میں واپس لانے کا فیصلہ۔
تاریخی عمارتوں کی بحالی، شاہ عالم گیٹ سے رنگ محل چوک تک پیدل گزرگاہ کی تعمیر۔
بھاٹی، موچی، موری، یکی، مستی اور دہلی گیٹ سمیت آٹھ تاریخی گزرگاہوں کی اصل حالت میں بحالی، الیکٹرک کارٹس اور ٹورسٹ انفارمیشن آفس کا قیام۔
لاہور قلعہ کی فصیل کی قدیمی طرز پر بحالی، دو مراحل میں فصیل کی تعمیر: ٹیکسالی گیٹ سے بھاٹی گیٹ اور یکی گیٹ سے مستی گیٹ تک۔
مریم زمانی مسجد اور دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی، شاہ عالمی چوک میں باؤلی باغ کو تجاوزات سے پاک کرنا۔
نیلا گنبد میں کیفے اور انڈر گراؤنڈ پارکنگ، پاک ٹی ہاؤس اور دیگر عمارتوں کی تاریخی شکل میں بحالی۔
اندرون لاہور میں ہنرمندوں سے منسوب 36 گلیوں کی بحالی اور داتا دربار کی توسیع کے لیے 18 کنال اراضی کے حصول پر بات چیت۔
ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں “کانوونٹ گارڈن” اور “ایوری تھنگ آرگینک کیفے” کے قیام کے منصوبے، شاپس، سیمی کورڈ ایریا اور دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ سمیت۔
“نیو میوزیم بلاک” منصوبے کے تحت عالمی معیار کی گیلریز، قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ تہذیب سے متعلق نمائشیں، جدید انٹرایکٹو سکرینز۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

یہ منصوبہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔