پنجاب کے پینشنرز کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے:یاور مہدی

 پنشن میں صرف 3.5 فیصد اضافہ مسترد کرتے ہیں:ریاض چودھری‘میاں خالد حبیب
لاہور(سٹی رپورٹر)پنجاب گورنمنٹ پینشنرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف یاور مہدی، چیئرمین ریاض چودھری اور جنرل سیکرٹری میاں خالد حبیب نے پنجاب حکومت کی جانب سے پینشن میں صرف 3.5 فیصد اضافہ مسترد کرتے ہوئے اسے پنجاب کے لاکھوں پینشنرز، بیواؤں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک ہی ملک میں رہنے والے پینشنرز کے ساتھ مختلف سلوک قابلِ فہم نہیں۔ وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے پینشنرز کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے جبکہ پنجاب کے پینشنرز مسلسل دوسرے سال کم ترین اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔یاور مہدی نے کہا کہ حکومت پاکستان غریب اور امیر سب سے اشیائے ضروریہ پر 18 فیصد تک سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے، مگر جب عمر بھر ریاست کی خدمت کرنے والے پینشنرز کو مہنگائی سے تحفظ دینے کا وقت آتا ہے تو ان کے لیے محض 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ موجودہ مہنگائی، طبی اخراجات اور یوٹیلیٹی بلوں کے تناظر میں ناکافی اور غیر منصفانہ ہے۔چیئرمین ریاض چوہدری نے کہا کہ پینشن کوئی خیرات یا سرکاری عنایت نہیں بلکہ ملازمین کا حاصل شدہ، قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ پنجاب کے پینشنرز بھی وہی مہنگائی برداشت کر رہے ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے پینشنرز برداشت کر رہے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔جنرل سیکرٹری میاں خالد حبیب نے کہا کہ پینشنرز پہلے ہی فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن مورخہ 2 دسمبر 2024 کے تحت متعارف کرائی گئی مختلف ترامیم سے متاثر ہیں، جن میں رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر Reduction Factor، تین سالہ اوسط تنخواہ کی بنیاد پر پینشن کا تعین، کمیوٹیشن میں کمی اور فیملی پینشن سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات نے پینشنرز اور ان کے خاندانوں کے مالی تحفظ کو مزید کمزور کر دیا ہے۔