بلو لائن آٹو میٹڈ ریل منصوبے پر اہم پیشرفت، اے آر ٹی ڈسپلے ماڈل لاہور پہنچ گیا

بلو لائن آٹو میٹڈ ریل منصوبے پر اہم پیشرفت، اے آر ٹی ڈسپلے ماڈل لاہور پہنچ گیا

لاہور: پنجاب حکومت کے گیم چینجر منصوبے بلو لائن آٹو میٹڈ ریل ٹرانزٹ سسٹم (ART) پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت چین کی جانب سے بھیجا گیا اے آر ٹی (Automated Rail Transit) کا پہلا ڈسپلے ماڈل لاہور پہنچ گیا ہے۔

یہ منصوبہ صوبائی دارالحکومت میں جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیسٹ رن کا آغاز اگست میں متوقع
محکمہ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق اے آر ٹی ٹرین سیٹ اگست کے پہلے ہفتے میں ٹیسٹ رن کے لیے آپریشنل ہوگا۔ فی الحال ایک خودکار ریل سیٹ لاہور کے ڈیرہ گجراں ڈپو میں پہنچا دیا گیا ہے، جہاں اس کا ابتدائی معائنہ اور تیاری کا عمل جاری ہے۔

جدید چارجنگ سسٹم کی تنصیب شروع
منصوبے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ریل سیٹ الیکٹرک چارجنگ پر چلتا ہے، جس کے لیے مخصوص چارجنگ سسٹم کی تنصیب شروع کردی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ایک مرتبہ مکمل چارج کرنے کے بعد یہ ٹرین 400 کلومیٹر تک مسلسل سفر کی صلاحیت رکھتی ہے، جو کہ اسے توانائی کے لحاظ سے مؤثر بناتا ہے۔

منصوبے کی فزیبیلٹی اور روٹ
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اس وقت بلو لائن منصوبے کی فزیبیلٹی اسٹڈی مکمل کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا روٹ لاہور کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک کینال روڈ پر تجویز کیا گیا ہے، جو ٹھوکر نیاز بیگ سے شروع ہو کر ہربنس پورہ تک جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی روٹ پر مستقبل میں ییلو لائن منصوبہ بھی مکمل کیا جائے گا۔

منصوبے کی لاگت اور مسافروں کی گنجائش
پنجاب حکومت نے منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 60 سے 80 ارب روپے کے درمیان لگایا ہے۔ توقع ہے کہ یہ نظام روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرے گا، جو لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک دباؤ کے پیش نظر ایک بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔

2026 تک منصوبہ مکمل کرنے کا ہدف
پنجاب حکومت نے اس جدید ریل ٹرانزٹ منصوبے کو دسمبر 2026 تک مکمل طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام تکنیکی، مالی اور ماحولیاتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔