چکوال، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،بیورو رپورٹ) سربراہ جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والی حکومت آئین میں ترامیم کا حق نہیں رکھتی ، تیزی سے ہونے والی 26ویں اور27 ویں ترامیم اسلام کے منافی ،دینی و مذہبی جماعتوں کی اے پی سی میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔ ان کے پاس اصل مینڈیٹ ہی نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف مسلم لیگ (ن) کی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے ، جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان جو آئین پاکستان کی بنیادی دستاویز ہے کی نفی کی گئی ،اس حوالے سے22دسمبرکو کراچی میں تمام دینی اور مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی ہے جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیاجائے گا ،اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا جو رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو مجروح کر رہا ، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتیں نہ ہونے دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوسناک ہے،میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں۔