خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، دیر، چترال، اور خیبر کے علاقے لنڈی کوتل و گردونواح میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.7 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز ہندوکش کا علاقہ بتایا جا رہا ہے جو افغانستان میں واقع ہے۔زلزلے کے نتیجے میں کئی لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے: یوریشین، بھارتی، اور عربین۔ زیر زمین حرارت کے باعث یہ پلیٹس حرکت کرتی ہیں، جس سے زمین ہلتی ہے اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب پھیلتی ہیں۔زلزلے اور آتش فشاں کے واقعات ان علاقوں میں زیادہ دیکھے جاتے ہیں جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے، وہاں مستقبل میں بھی بڑے زلزلے کے امکانات ہوتے ہیں۔پاکستان کا تقریباً دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے، جہاں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کے خطرے میں ہیں، خاص طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین ہیں۔ پاکستان زلزلوں کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع پاکستان میں یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین موجود فالٹ لائنز متحرک رہتی ہیں اور وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔