واشنگٹن (آئی این پی )ماہرینِ فلکیات نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ابتدائی کائنات کے بارے میں ایک حیرت انگیز سراغ حاصل کیا ہے۔سائنسدان ان ناپید ستاروں کو علامتی طور پر ڈائناسور ستارے کہہ رہے ہیں۔ جیسے زمین پر ڈائناسور کبھی حکمران تھے مگر آج صرف ان کے نشانات باقی ہیں، ویسے ہی یہ ستارے بھی اب موجود نہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے کیمیائی آثار آج بھی خلا میں محفوظ ہیں۔یہ ساری کہانی ایک دور افتادہ کہکشاں GS 3073 سے شروع ہوتی ہے، جو زمین سے تقریبا 12.7 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے اس وقت کی حالت میں دیکھ رہے ہیں جب کائنات محض ایک ارب سال کی تھی، یعنی کائناتی تاریخ کا ابتدائی باب۔جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے جب اس کہکشاں کی گیس کا تجزیہ کیا تو سائنس دان چونک اٹھے۔ یہاں نائٹروجن کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ تھی، جبکہ آکسیجن نسبتا کم۔ یہ تناسب ایسا تھا جو نہ تو عام ستاروں سے میل کھاتا تھا اور نہ ہی کسی معروف فلکی دھماکے سے۔یہ وہ لمحہ تھا جب سائنس دانوں کو احساس ہوا کہ وہ کسی بالکل مختلف قسم کے ستاروں کے نشانات دیکھ رہے ہیں۔تحقیقی ماڈلز کے مطابق یہ ستارے عام نہیں تھے۔ ان کا وزن سورج سے ایک ہزار سے دس ہزار گنا زیادہ تھا