ہیوسٹن(آئی این پی )ناسا کے زیرِ اہتمام خلائی دوربین جیمس ویب اور چاندرا ایکس رے آبزرویٹری سے حاصل ہونے والے حیران کن مشاہدات نے سائنسدانوں کو چونکا دیا اور کائنات کی ابتدا سے متعلق برسوں پرانے نظریات کو ازسرِنو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عظیم دھماکے کے بعد کائنات نے جس رفتار سے نشوونما پائی، وہ ماضی میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ تیز تھی اور کہکشائیں و عظیم ساختیں توقع سے بہت پہلے وجود میں آ گئیں، یہ دریافت نہ صرف کائناتی ارتقا کی سمجھ کو بدل سکتی ہے بلکہ کائنات کی پیدائش اور اس کے پھیلا سے متعلق بنیادی سوالات کو بھی ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لے آئی ہے۔ان مشاہدات سے عندیہ ملتا ہے کہ عظیم دھماکے (بگ بینگ) کے بعد کہکشاں کا ایک مجموعہ اس وقت سے کہیں پہلے تشکیل پا گیا، جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔محققین کے مطابق یہ مشاہدات ایک ابھرتے ہوئے کہکشانی جھرمٹ کو ظاہر کرتے ہیں جس میں کم از کم 66 ممکنہ کہکشائیں شامل ہیں، جن کی مجموعی کمیت تقریبا 20 کھرب سورجوں کے برابر ہے، اس جھرمٹ کا تعلق اس دور سے ہے جو عظیم دھماکے کے تقریبا ایک ارب سال بعد کا ہے، جبکہ کائنات کا آغاز تقریبا 13اعشاریہ8 ارب سال قبل ہوا تھا