فلسطینی وزارت خارجہ نے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صیہونی آبادکار تنظیمیں عبرانی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسجد الاقصیٰ پر حملے، اس کی شہادت اور وہاں ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے اعلانیہ پیغامات شیئر کر رہی ہیں، جو اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی
فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی کوشش بھی ہیں۔بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
“اس خطرناک اشتعال انگیزی کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیا جائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کیے جائیں تاکہ مقدس مقامات کو تحفظ حاصل رہے۔”
قابض آبادکاروں کی سرگرمیاں
فلسطینی وزارت خارجہ نے یاد دہانی کروائی کہ اسرائیلی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی قبضے کے ساتھ ساتھ قابض افواج کی حفاظت میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں، جو موجودہ اسٹیٹس کو کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
موجودہ اسٹیٹس کو کی حیثیت
بیان میں واضح کیا گیا کہ بیت المقدس میں قائم موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلموں کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں صرف دورہ کرنے کی اجازت ہے، عبادت کرنے کی اجازت نہیں۔اس ضابطے کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں مذہبی جذبات بھڑکنے اور امن کی فضا متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں صیہونی گروہوں کی اشتعال انگیزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے اعلانات اور ویڈیوز نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے اذیت کا باعث ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ مسجد الاقصیٰ جیسے مقدس مقام کو جارحیت اور اشتعال انگیزی سے بچایا جا سکے۔