نوٹیفکیشن کے مطابق، اب سائبر کرائم کی تفتیش نیشنل سائبر کرائم ونگ کرے گا

نوٹیفکیشن کے مطابق، اب سائبر کرائم کی تفتیش نیشنل سائبر کرائم ونگ کرے گا

ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب سائبر کرائم سے متعلق تمام قسم کی تفتیش اور مقدمات کی درج بندی نیشنل سائبر کرائم ونگ کے ذریعے ہوگی۔

 اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لوکل پولیس اب سائبر کرائم سے متعلق کوئی مقدمہ درج نہیں کرے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق، اگر کوئی سائبر کرائم کی شکایت یا درخواست آتی ہے تو اسے فوری طور پر ایف آئی اے نیشنل سائبر کرائم کو بھیج دیا جائے گا۔ اسی طرح، آئندہ تمام چالانیں اور مقدمات کی سماعت نیشنل سائبر عدالتوں میں ہوگی۔اس نوٹیفکیشن کے تحت، مختلف سائبر کرائمز کی تحقیقات کی ذمہ داری اب نیشنل سائبر کرائم ونگ سنبھالے گا، جن میں شامل ہیں:

آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کے کیسز، جن میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کے واقعات۔
جعلی آئی ڈیز، جعلی پروفائلز اور اکاؤنٹس بنانے کی تحقیقات۔
سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی، بشمول ای کامرس اور آن لائن خرید و فروخت پر ہونے والی فراڈ۔
جعلی ویب سائٹس یا ای میلز کے ذریعے پیسے لوٹنے کے واقعات۔
ڈیٹا چوری، ہیکنگ اور اکاؤنٹ ہیکنگ کے معاملات۔
ذاتی معلومات، تصاویر یا ویڈیوز چوری کرنا، غیر اخلاقی مواد پھیلانا، فحش، غیر اخلاقی یا مذہبی منافرت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر پھیلانے کے واقعات۔
ریاست یا حساس اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز مواد پھیلانے کے کیسز۔
یہ نوٹیفکیشن اس بات کا واضح پیغام ہے کہ سائبر کرائمز کے خلاف کارروائی اب مرکزی سطح پر نیشنل سائبر کرائم ونگ کے ذریعے ہی کی جائے گی، تاکہ تفتیش میں معیار اور یکسانیت برقرار رہے اور جرائم کی مؤثر روک تھام ممکن ہو۔