14ہزار کنٹریکٹ اساتذہ مستقل نہ ہوسکے

 اساتذہ اور مانیٹرنگ افسر ن لیگ کے سابقہ دورِ میں بھرتی کیے گئے تھے
وزیرِ تعلیم نے مستقلی کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ ابھی تک ایفا نہ ہو سکا
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب کے 14 ہزار سے زائد کنٹریکٹ اساتذہ کی مستقلی ایک بار پھر خواب بن کر رہ گئی۔حکومتِ پنجاب نے نئی ریگولیشن پالیسی کے تحت مستقل ملازمین نہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ اساتذہ اور مانیٹرنگ افسران مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دورِ حکومت میں بھرتی کیے گئے تھے، تاہم نہ پی ٹی آئی کے دور میں ریگولر ہو سکے اور نہ ہی موجودہ حکومت کے اعلانات کے باوجود کوئی پیش رفت ہوئی۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال نے ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ان کے مطابق وزیرِ تعلیم نے مستقلی کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ ابھی تک ایفا نہ ہو سکا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیرِ تعلیم کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے محکمہ سکول ایجوکیشن کی سفارشات کے مطابق اساتذہ کو مستقل کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم نئی ریگولیشن پالیسی کے بعد یہ تجویز غیر مئوثر ہو گئی ہے۔ایجوکیٹرز کے رہنما محمد عمران کا کہنا ہے کہ اب تک 60 سے زائد اساتذہ وفات پا چکے ہیں، مگر ریگولر نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خاندانوں کو کوئی مالی یا سرکاری فائدہ نہیں دیا گیا۔اساتذہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کو استحکام دینے کے لیے نئی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو ریگولرائز کیا جائے۔