طالبان حکومت علاقائی امن کے لئے مثبت کردار ادا کرے:دفترخارجہ

 پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، امید ہے  افغان عوام ایک دن نمائندہ اور جامع حکومت کے تحت آزادانہ زندگی گزاریں گے
 طالبان وزیر خارجہ کا بھارت میں دیا گیا  بیان گمراہ کن ہے‘ مشترکہ اعلامیہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نفی کرنے کے مترادف ہے:  ہفتہ وار پریس بریفنگ  
اسلام آباد(آئی این پی)  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے  طالبان وزیر خارجہ کا دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ کہنے کا بیان مسترد کرتے ہیں، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ثبوت کئی بار پیش کیے، طالبان کی درخواست پر  48 گھنٹوں کی جنگ بندی نافذ کی گئی، دونوں ممالک مسئلے کے پرامن حل  کیلئے  تعمیری مذاکرات میں مصروف ہیں، طالبان وزیر خارجہ کا بھارت میں مشترکہ اعلامیہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی نفی کرنے کے مترادف ہے ۔ترجمان دفترخارجہ  شفقت علی خان نے  ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ  پاکستان کو افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی اشتعال انگیزی پر تشویش ہے،  پاکستان نے بار بار افغانستان میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع دی، پاکستان نے11 تا 15 اکتوبر سرحد پر طالبان کے اشتعال انگیز حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت طالبان کے حملوں کو موثر طور پر پسپا کیا، طالبان فورسز اور ان کے زیرِ استعمال دہشت گرد ٹھکانوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے  واضح کیا کہ جوابی کارروائی شہری آبادی نہیں دہشتگرد عناصر کے خلاف تھی۔ پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کیا ۔پاکستان ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان وزیر خارجہ کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے، ایسے الزامات طالبان حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتے