ملک کے 15 نامزد بینکوں میں حج درخواستوں کی وصولی کا آغاز

ملک کے 15 نامزد بینکوں میں حج درخواستوں کی وصولی کا آغاز

حج 2025 کے لیے درخواستوں کی وصولی آج سے شروع ہو گئی ہے، جو ملک کے مختلف نامزد بینکوں میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔

 وزارت مذہبی امور نے اس سال کے حج انتظامات کے حوالے سے مختلف اہم نکات اور سہولیات کا اعلان کیا ہے، جن میں درخواست گزاروں کے لیے آسانیاں اور ضروری ہدایات شامل ہیں۔

حج درخواست کے لیے ضروری معلومات:
درخواست کے ساتھ جمع رقم:
حج درخواست کے ساتھ ابتدائی طور پر 2 لاکھ روپے جمع کروانا ہوں گے۔
بقیہ ادائیگی:
حج قرعہ اندازی کے بعد کامیاب امیدواروں سے دوسری قسط وصول کی جائے گی، اور یکم تا 10 فروری تک مکمل حج واجبات جمع کرنا ضروری ہو گا۔
جمع کروانے کی جگہیں:
ملک کے 15 نامزد بینکوں کی سینکڑوں برانچز پر درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔

سرکاری حج اسکیم کے کوٹے کی تقسیم:
سرکاری حج اسکیم کے تحت 89,605 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سپانسر شپ اسکیم کے تحت 5,000 نشستیں مخصوص ہیں۔سپانسر شپ اسکیم کے تحت درخواست دہندگان کو امریکی ڈالرز میں یکمشت ادائیگی کرنی ہو گی۔

عازمین حج کے لیے سہولیات:
سہولتوں میں شامل ہیں:

فضائی ٹکٹ
رہائش (الگ فیملی رومز کی سہولت)
کھانے کی سہولت
قربانی کی خدمات
مکتب کی خدمات
ویکسینیشن
تربیت کے سیشن
خواتین کے لیے خصوصی اقدامات:

خواتین سرپرست کی اجازت کے ساتھ قابل اعتماد گروپ کے ساتھ بغیر محرم حج کے لیے جا سکتی ہیں۔
مانیٹرنگ:
وزارت مذہبی امور نے درخواستوں کی مانیٹرنگ کے لیے ایک مرکزی ڈیش بورڈ قائم کیا ہے، جس کے ذریعے بینک برانچز کی کارکردگی کو براہ راست چیک کیا جائے گا۔

پابندیاں اور شرائط:
صحت سے متعلق پابندیاں:پیچیدہ اور شدید نوعیت کے امراض میں مبتلا افراد کو حج پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ایڈوانس اسٹیج کی حاملہ خواتین کو بھی حج کے لیے روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کم عمر بچوں کی پابندی:12 سال سے کم عمر بچوں کو بھی حج کے لیے نہیں لے جایا جا سکے گا۔

عازمین کے لیے مدد کے ذرائع:
وزارت مذہبی امور نے عازمین کی رہنمائی کے لیے مختلف ذرائع فراہم کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

حج ہیلپ لائن
سرکاری ویب سائٹ
موبائل ایپ
سوشل میڈیا اکاؤنٹس

مزید اقدامات:
وزارت نے حاجیوں کے لیے مختلف سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بزرگ عازمین کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ وہ حج کے دوران کسی مشکل کا سامنا نہ کریں۔یہ اقدامات حکومت کی طرف سے حج کو زیادہ سہل اور منظم بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاکہ تمام عازمین اطمینان کے ساتھ اپنی مذہبی ذمہ داری ادا کر سکیں۔