لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملوں نے شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ انسانی بحران بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بیروت کے علاقے بشورہ میں اسرائیلی طیاروں نے ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ حملے سے پہلے اسرائیل نے علاقے کو خالی کرنے کی وارننگ دی تھی، تاہم دھماکے اور بمباری نے شدید خوف و ہراس پھیلایا۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز ملک بھر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے، اور حملے دارالحکومت کے علاوہ جنوبی اور مشرقی لبنان تک پھیل گئے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں محدود زمینی کارروائی بھی شروع کی ہے، جبکہ زہرانی دریا اور صور کے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی گئی۔ادھر جنوبی شہر صور، البرج الشمالی اور دیگر علاقوں میں بھی رات کے وقت حملے کیے گئے۔ 2 مارچ سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں، جبکہ 2,200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے باعث تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تنظیم کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملے روکے، بے گھر افراد کی واپسی کو یقینی بنائے اور قیدیوں کی رہائی کرے۔عالمی ردعمل میں فرانس اور جرمنی نے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ فرانسیسی نمائندے نے کہا کہ موجودہ حالات میں لبنان سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا غیر حقیقی توقع ہے، جبکہ جرمن چانسلر نے اسرائیلی زمینی کارروائی کو ’غلطی‘ قرار دیا ہے۔اس واقعے نے لبنان میں انسانی بحران اور عدم تحفظ کی صورتحال مزید سنگین کر دی ہے۔