امریکی صدرٹرمپ ایران میں ایک اور جھٹکا
ایرانی سکیورٹی چیف لاریجانی شہید :اسرائیلی دعویٰ ،ایران کے جوابی حملے،خیبر شکن، عماد ، قدر میزائل کا استعمال،عراق میں امریکی سفارتخانے پر حملہ ،دوحہ میں دھماکے، فجیرہ کے قریب حملے میں آئل ٹینکر کو نقصان ،ایران ہماری قوم کیلئے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، مستعفی انسداد دہشتگردی سربراہ، جانا ہی بہتر:امریکی صدر
تہران ،واشنگٹن( خصوصی رپورٹ)اتحادی ممالک کے ساتھ چھوڑنے سے ٹرمپ کی نیند اڑ گئی، جنگ کے مخالف اہم عہدیدار نے استعفیٰ دیدیا اسرائیل نے ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہیدکرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئیامریکی انسداد دہشتگردی سربراہ جو کینٹ مستعفی ہوگئے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے ہوئے تھے۔تاہم ایرانی میڈیا نے تردید کرتے ہوئے سیکرٹری قومی سلامتی کونسل علی لاریجانی کا پیغام جاری کردیا،یاد رہے علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا لاریجانی کی شہادت ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا موقع دے گی۔ایرانی عوام کی جانب سے مذہبی قیادت کا تختہ الٹنا ایک دم نہیں ہو گا۔ایرانی مذہبی قیادت کا تختہ الٹنا آسان کام نہیں ، اگر ہم ڈٹے رہے تو عوام اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے سکیں گے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ تہران پر بڑے پیمانے پر حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے، جس میں تہران میں انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران کے شہر اندرزگو کے علاقے میں بھی ایک بڑا دھماکا ہوا جبکہ کامرانیہ کے علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کی بسیج فورس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے،اسرائیلی فوج نے ایران کی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یاد رہے کہ سبیج ایران کی ایک نیم فوجی تنظیم ہے جو رواں سال کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈا ئون میں شامل رہی تھی۔سعد آباد پیلس کمپلیکس کے قریب بھی کئی شدید دھماکے سنائی دئیے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اراک شہر میں امریکا اور اسرائیل کے حملے میں نومولود بچہ اور اس کی 2 سالہ بہن سمیت والدہ اور دادی شہید ہو گئیں۔ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 1444 افراد شہید اور 18551 زخمی ہو چکے ہیں۔ادھر امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہو اور 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ’دشمن کی جانب سے بھیجی گئی‘ سینکڑوں سٹارلنک کی ڈیوائسز ضبط کر لی ہیں۔ ملکی قانون کے تحت سٹارلنک ڈیوائسز کا حصول اور استعمال جرم ہے جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایران میں انٹرنیٹ پر تقریبا بلیک آ ئوٹ ہے۔ تاہم کچھ لوگ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کیلئے سٹار لنک کا استعمال کرتے ہیں۔جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نیکہا اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے دوران انھوں نے 10 ’غیر ملکی جاسوس‘ گرفتار کیے ہیں۔دوسری جانب ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل میں تباہی مچا دی۔متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، تل ابیب میں کئی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں، درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔بیت شمیش پر بھی میزائل داغے گئے، اسرائیل میں ہلاک فوجیوں اور شہریوں کی تعداد پندرہ ہوگئی، ہلاکتوں کے معاملے پر اسرائیلی حکام خاموش ہیں۔ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57 ویں لہر میں ایران نے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے۔اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کے ٹکڑے یروشلم کے قدیم شہر کے کئی مقدس مذہبی مقامات کے قریب آ گرے۔سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مشرقی علاقے میں 12 ڈرون مار گرائے گئے، کویتی نیشنل گارڈ نے بھی 1 ڈرون مار گرانے کی تصدیق کر دی۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئر پورٹ کے قریب امریکی سفارتی تنصیب پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا، بی بی سی کے مطابق امریکی سفارتخانے پر منگل کی صبح تین ڈرون اور چار راکٹ داغے گئے جن میں سے کم از کم ایک سفارتخانے کے اندر گراجبکہ جدیریہ کے علاقے میں ایران نواز الحشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹر پر فضائی حملے میں 6اہلکار جاں بحق ہو گئے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، قطری وزارت داخلہ کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں تباہ کیا گیا جس کا ملبہ صنعتی علاقے میں گرنے سے آگ لگی گئی، سول ڈیفنس کی ٹیمیں قابو پا رہی ہیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ،ابوظبی کی شاہ گیس فیلڈ میں ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا،تاہم نقصان کے جائزے تک فیلڈ کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق فجیرہ کے قریب آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا، جس سے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا۔بیروت میں حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے شہر نہاریہ پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے جہاں طبی عملے نے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ جبکہ دم گھٹنے کی کیفیت کا شکار ہونے والے 6 افراد جن میں دو لڑکیاں اور چار بڑے افراد شامل تھے کو بھی طبی امداد فراہم کی گئی۔دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کیگا ئوں عرب الجل کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ادھر امریکا میں ایران جنگ پر اختلاف کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی سربراہ جو کینٹ مستعفی ہوگئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی انٹیلی جنس میں ہلچل مچ گئی، جو کینٹ نے ایران جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا۔ جو کینٹ جولائی 2025 میں کا ئونٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ وہ امریکی سپیشل فورسز اور سی آئی اے کے سابق افسر بھی رہ چکے ہیں۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جو کینٹ کا کہنا تھا کہ ایران ہماری قوم کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا،ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ اسرائیل اور ا1س کی طاقتور امریکی لابی کے دبا ئو پر شروع کی گئی، ایران کے خلاف جنگ کا جواز قانونی طور پر مبہم ہے۔ امریکی قانون کے تحت جنگ شروع کرنے کے لیے فوری خطرے کا ہونا ضروری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا ئونٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ ایک اچھے آدمی ہیں، میرا ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ جوکینٹ سکیورٹی کے معاملے میں کمزور ہیں،لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا ہم ابھی خطے سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،تاہم ہم بہت جلد وہاں سے نکل جائیں گے۔ضروری تھا کہ ایران سے ایٹمی خطرے کو ختم کر دیں ،اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے بڑی حمایت حاصل رہی لیکن نیٹو سے حمایت نہیں ملی، برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے تعاون نہیں کیا،امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم "ہماری جیت کے بعد دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پرتیار ہوئے، میرے خیال میں برطانوی وزیراعظم ایک اچھے انسان ہیں لیکن میں مایوس ہوں۔امریکی صدر نے کہاکہ ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک کو احساس تھا کہ ایران کتنا بڑا خطرہ تھا، یہ بہت ضروری تھا کہ وہ ایران سے ایٹمی خطرے کو ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا ایران سے جنگ کی وجہ سے مارچ کے آخر میں ہونے والے اپنے اہم دورہ? چین کو تقریباً ایک ماہ کے لیے م ئوخر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ، چین سے ملاقات میں تاخیر کے پیچھے کوئی چال نہیں۔’سادہ سی بات ہے کہ جنگ جاری ہے اور میرے خیال میں میرا یہاں رہنا ضروری ہے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے،امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایران کسی دبا ئو یا دھونس کے آگے نہیں جھکے گا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرے اور متعلقہ فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرے۔جنگ بندی کی اپیلیں اس وقت تک موثر نہیں ہوں گی جب تک ایران کے خلاف مزید حملوں کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ادھر ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا امریکا خارگ میں تیل تنصیبات پر جس ملک سے حملہ کریگا تو جواب میں اس ملک کی تیل وگیس تنصیبات پر حملہ کیا جائیگا،ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اسماعیل بقائی نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر کی حالت سے متعلق میڈیا پر گردش کرتی تمام خبروں کی تردید کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل ٹھیک ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے ہی ان کا پیغام سن چکے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد وہ عوام کو ایک اور پیغام دیں گے۔