مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے کتے کی جان بچانے کی کوشش کی
کینبرا(آئی این پی )آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے پالتو کتے کے کینسر کے علاج کیلئے نہ صرف ممکنہ طریقہ تلاش کیا بلکہ اس کے لیے تجرباتی ویکسین بھی تیار کر لی۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ پال کونینگھم کا تعلق طب یا بائیولوجی کے شعبے سے نہیں ہے، تاہم انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اپنے کتے کی جان بچانے کی کوشش کی۔پال کے پالتو کتے روزی کو جان لیوا کینسر تشخیص ہوا تھا اور سرجری اور کیموتھراپی جیسے روایتی علاج ٹیومرز کو روکنے میں ناکام ہو گئے تھے، اس صورت حال میں پال نے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتے ہوئے کینسر کے ممکنہ علاج تلاش کرنا شروع کیے۔تحقیق کے دوران انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے کتے کے کینسر کے
لیے ایک مخصوص mRNA ویکسین کا ڈیزائن تیار کیا