بچی کی چھوٹی و بڑی آنتیں بھی پوری طرح متاثر ہوئیں، گردوں اور دل نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جو اس کی فوری موت کی وجہ بنا؛ پوسٹ مارٹم رپورٹ
چکوال (یواین پی) صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں سی سی ڈی کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والی 9 سالہ ہانیہ احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی پر ہونے والے ظلم کی لرزہ خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں گولیاں لگنے کے باعث معصوم بچی کے گردوں اور دل نے کام کرنا بند کر دیا تھا، جو اس کی فوری موت کی وجہ بنا۔رپورٹ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کے جسم پر مجموعی طور پر 11 نشانات ملے ہیں، فائرنگ کی شدت کی وجہ سے اس کا دایاں پھیپھڑا شدید ترین متاثر ہوا، گولیوں کی زد میں آنے سے بچی کا جگر، اور چھوٹی و بڑی آنتیں بھی پوری طرح متاثر ہوئیں۔دوسری طرف اس کیس کی شفاف انکوائری اور انصاف کے حصول کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی گئی، جس پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے سماعت کی، سماعت کے آغاز پر معزز جج نے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’چکوال کا یہ معاملہ پنڈی بینچ کے زمرے میں آتا ہے، یہ درخواست لاہور کی مرکزی عدالت میں کس طرح قابلِ سماعت ہے؟‘۔عدالت کے اعتراض پر درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو مطمئن کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ’میں یہاں صرف قتل کیس نہیں، بلکہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب یعنی سی سی ڈی کی مجموعی قانونی حیثیت کے تعین کے لیے اعلیٰ عدالت کے سامنے آیا ہوں کہ یہ کس قانون کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں؟‘، وکیل کے اس جواب پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کہا کہ ’ٹھیک ہے، پھر آپ کی اس درخواست کو بھی مرکزی درخواست کے ساتھ ہی یکجا کرکے سنا جائے گا‘ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کو ملتوی کردیا۔