حق مہر کی ادائیگی شوہر پر لازم ، والدین بچے کا نان نفقہ ،وراثتی حقوق ختم نہیں کر سکتے لاہور ہائی کورٹ

 حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے  وہ شوہر سے علیحدہ رہ سکتی ہے:جسٹس مزمل اختر شبیر کا  10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری
نابالغ بچوں کے حقوق والدین کے ذاتی تنازعات کا حصہ نہیں بن سکتے:جسٹس محسن اخترکیانی  نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا
لاہور(آن لائن‘یو این پی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے حق مہر بیوی کا بنیادی قانونی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے۔ حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے وہ شوہر سے علیحدہ رہ سکتی ہے، نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کی کفالت اور نان و نفقہ کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جسٹس مزمل اختر شبیر نے عرفان سرفراز کی آئینی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کے دائر اختیار کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا۔عدالت نے قرار دیا  درخواست گزار ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی آئینی دائرہ اختیار کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔فیصلے میں کہا گیا کہ شواہد کا جائزہ لینا فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار ہے اور یہ اختیار قانون کے مطابق درست طور پر استعمال کیا گیا، عدالت کے مطابق درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ اس نے چار کنال زرعی زمین کے عوض چار لاکھ روپے ادا کیے، تاہم وہ اس ادائیگی کے کوئی قابلِ قبول شواہد پیش نہ کر سکا۔دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے حقوق سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کسی بھی سمجھوتے کے ذریعے بچے کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق ختم نہیں کر سکتے۔جسٹس محسن اخترکیانی نے محمد ولید ارشد کی درخواست پرپانچ صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔درخواست گزار نے فریقین کے درمیان سمجھوتہ طے پانے کے بعد درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھیجسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی،تاہم فیصلے میں نابالغ بچوں کے حقوق کے حوالے سے اہم قانونی اصول بھی وضع کیے گئے۔فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والے سمجھوتے میں ماں نے نابالغ بچی کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ سمجھوتے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ بچی مستقبل میں والد سے کسی قسم کے نان نفقہ کا مطالبہ نہیں کرے گی اور اسے والد کی وراثت سے بھی محروم تصور کیا جائے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ کی مسلسل قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ نان نفقہ کا حق بچے کا ذاتی حق ہے، ماں اس حق کی مالک نہیں بلکہ صرف سرپرست ہوتی ہے، اس لیے وہ نابالغ کے مستقبل کے نان نفقہ کے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ نابالغ کے مستقبل کے نان نفقہ سیدستبرداری کی کوئی بھی شق قانونا غیر مثر ہوگی، جبکہ بچے کو نان نفقہ یا وراثت سے مستقل محروم کرنا آئین کے بھی منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ والدین کی رضامندی کسی ایسے سمجھوتے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی جو بچے کے مفاد کے خلاف ہو۔لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ نابالغ کے مستقبل کے وراثتی حقوق ختم کرنے یا ترک کرنے کی ہر شق ابتدا سے ہی غیر قانونی تصور ہوگی اور ایسی شقیں مستقبل میں نابالغ کی جانب سے دائر کیے جانے والے کسی بھی دعوے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گی۔