ایران کی امریکی اڈوں پر حملے کی تیاری
24 گھنٹوں میں 28 اسرائیلی طیارے روکنے کا دعویٰ،ایران کے اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ،موساد پر حملے،جنگ بندی سے بہتر حل کی تلاش،ایران پر حملے سست نہیں ہونگے:ٹرمپ،امریکی حملوں سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا:چینی وزیر خارجہ
تہران ، نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک )، امریکی اخبار نے دعویٰ ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی منصوبہ بندی مکمل کر لی، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کہنا ہے کہ اس غیر قانونی حملے کی مکمل ذمہ داری امریکا پر بھی عائد ہوتی ہے،یران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کی دسویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیے جس سے پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ایران کا 24 گھنٹوں میں 28 اسرائیلی طیارے روکنے کا دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ممکنہ حملوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں عملی طور پر شامل ہوتا ہے، تو ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے عراق سے حملوں کا آغاز کیے جانے کا امکان ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی بھی اپنائی جا سکتی ہے تاکہ بحری نقل و حرکت کو متاثر کیا جا سکے۔امریکی حکام نے اس خدشے کے پیش نظر یورپ میں تقریباً تین درجن ری فیولنگ طیارے تعینات کر دیے ہیں جو نہ صرف امریکی اڈوں کی حفاظت کرنے والے لڑاکا طیاروں کی معاونت کریں گے بلکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں میں بمبار طیاروں کی رینج بھی بڑھا سکیں گے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام اس وقت ایک وسیع جنگ کے پھیلنے کے خدشے کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل کی جانب سے وائٹ ہاؤس پر ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایرانی جوہری تنصیبات، خاص طور پر فردو کے زیرِ زمین ری ایکٹر پر حملہ کرتا ہے تو ایران کے حامی گروہ، جیسے کہ یمن کے حوثی جنگجو، بحیرہ احمر میں امریکی یا اتحادی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کے زیر غور ایک آپشن 30 ہزار پاؤنڈ وزنی "بنکر بسٹر بم" کا استعمال ہے جو فردو جیسے زیرِ زمین ری ایکٹر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر، امیر سعید ایراوانی، نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا پر براہِ راست الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکی ہتھیاروں، انٹیلی جنس معلومات اور سیاسی حمایت کے بغیر اسرائیل کبھی ایران پر حملہ نہ کر پاتا۔" انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی حملے کی مکمل ذمہ داری امریکا پر بھی عائد ہوتی ہے،ایران نے آپریشن وعدہ صادق سوم کی دسویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیے جس سے پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک اور میزائل حملہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے کئی حملوں میں تازہ ترین ہے۔ اس حملے کے بعد پورے اسرائیل، بشمول تل ابیب، میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کی تازہ ترین بارش نے ملک بھر میں فضائی حملے کی وارننگز کو فعال کر دیا ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 20 میزائل داغے ہیں جبکہ شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف سید عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف اصل آپریشن جلد انجام دیا جائے گا۔ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف سید عبدالرحیم موسوی نے یہ بات جاری کیے گئے بیان میں کہی ہے۔دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 28 اسرائیلی طیاروں کی نشان دہی کر کے انہیں روکا۔ ایران اور اسرائیل کے مابین جاری تنازعے کے مسلسل ی فریقین میں میزائل حملوں کا تبادلہ ہوا،ایران نے اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ ، موساد کے آپریشن سنٹر اور اہم جنگی تحقیق کے مرکز پر حملے کئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے کے نئے تعینات کردہ اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل علی شادمانی کو بھی شہید کرنیکا دعویٰ کیا ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا جنگ بندی سے بہتر حل کی تلاش میں ہیں،ایران پر حملے سست نہیں ہونگے، جبکہ چین نے ردعمل دیتے ہوئے بیان کو جلتی پر تیل کے مترادف قراردے دیا، تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایران کے نئے تعینات کردہ سب سے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو شہید کر دیا ہے،اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے تہران کے قلب میں واقع ایک فعال کمانڈ سنٹر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کے چیف آف وار سٹاف میجر جنرل علی شادمانی شہید ہو گئے، علی شادمانی ایرانی مسلح افواج کے سب سے سینئر آپریشنل کمانڈر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے۔علی شادمانی نہ صرف جنگی کمانڈر تھے بلکہ ایمرجنسی کمانڈ سنٹر کے بھی سربراہ تھے جو ایرانی افواج کے آپریشنز اور حملے کی حکمت عملی کی منظوری دیتا ہے۔انہوں نے ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب دونوں کی جنگی حکمت عملی کی نگرانی کی، اس سے قبل وہ ایرانی جنرل سٹاف کے آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔علی شادمانی کو حالیہ جنگی مہم کے آغاز پر ایران کی مسلح افواج کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، ان کے پیشرو جنرل غلام علی راشد پہلے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے، ان کی شہادت ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو حالیہ مہینوں میں ہائی پروفائل شہادتوں کی ایک طویل لڑی کا حصہ بن چکی ہے اور جس سے ایران کی فوجی کمانڈ کی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔ اب تک تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 20 ایرانی جرنیل مارے جا چکے ہیں۔ ادھر اصفہان میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں متعدد جوہری تنصیبات واقع ہیں،ادھر ایران نے جنگ کے پانچویں روز اسرائیل پر میزائلوں سے ایک اور بڑا حملہ کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ،تل ابیب اور حیفہ کو چوتھی بار نشانہ بنایا ، مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملو میں 5 افراد زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور موساد کے آپریشن سنٹرمیں آگ بھڑک اٹھی۔پاکستانی وقت کے مطابق گزشتہ شام 7 بجے کے بعد کیے گئے ایران کے تازہ میزائل حملے میں کے بعد اسرائیلی افواج نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ناکارہ بنادیا، ایران نے درجنوں میزائل داغے تھے،ایران کے حالیہ میزائل حملے نے وسطی مقبوضہ فلسطین کے شہر رہووت میں واقع اسرائیل کیسائنسی و عسکری دماغ’’وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ‘‘کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کے جنگی تحقیقی مرکز کی متعدد عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک اہم تجربہ گاہ مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئی۔یہ مقام زندگی کے علوم، مصنوعی ذہانت، اور مالیکیولر بائیولوجی میں جدید تحقیق کا مرکز تھا، اور ان شعبوں میں ہونے والی تحقیق اسرائیلی ریاست کو نگرانی، ٹارگٹنگ، اور ہتھیاروں کے نظام کی تیاری میں مدد فراہم کر رہی تھی، یہ وہی نظام ہیں، جو خطے بھر میں کی گئی اسرائیلی جارحیت میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔قبل ازیں صبح کے وقت ایرانی حملوں کے نتیجے میں حیفہ آئل ریفائنری مکمل طور پر بند ہو گئی جبکہ ریفائنری کے 3 ملازم بھی ہلاک ہوگئے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ اسرائیل پرڈرونز اور میزائل سیحملہ کیا ہے، یہ ایران کا اسرائیل پر نواں حملہ ہے، وعدہ صادق تھری کے ذریعے بے گناہوں کا بدلہ لیا جارہا ہے۔ہم دشمن کو ایک لمحہ کے لیے بھی امن میسر نہیں ہونے دیں گے۔ایران کی پاسداران انقلاب کی ائیرواسپیس فورس نے اسرائیل کے خلاف جدید ڈرونز استعمال کرنے کا اعلان کردیا۔پاسداران انقلاب کی ائیرواسپیس فورس کی جانب سے شاہد 107 نامی یہ جدید ڈرونز اسرائیلی اہداف پر خودکش حملوں کیلئے استعمال کیے جائیں گے، ان ڈرونز میں ایسا انجن نصب کیا گیا ہے جس کی مدد سے یہ ڈرونز 1500 کلومیٹر بلندی پر پرواز کرسکتے ہیں۔اہد 107 جیسا ہی ایک ڈرون حال ہی میں اسرائیل کے ائیرو تھری ائیر ڈیفنس میزائل نظام کی جانب بڑھتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ اسرائیل نے لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں کیا ایران میں بھی وہی کرے گا۔واضح رہے کہ اسرائیل نے بمباری کر کے لبنان میں ہزاروں نہتے شہری قتل کیے تھے اور غزہ میں بھی حالیہ کشیدگی کے دوران 55 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری شہید کر چکا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تہران کے اہم مقامات کو جلد نشانہ بنایا جا سکتا ہے، فردو جوہری تنصیب گاہ کی زیر زمین یورینیم کی افزودگی کی سہولت ایک مسئلہ ہے، جس سے یقینی طور پر نمٹا جائے گا،تہران کے علاقے میں دس سے زائد جوہری اہداف تباہی کے دہانے پر ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیلی شہریوں پر حملے جاری رکھے، تو انہیں بھی ’’صدام حسین جیسا انجام‘‘ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔اسرائیل کی جانب سے صبح سویرے ایران پر تازہ ترین حملے کے بعد دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، اسرائیل نے پھر ایران میں شہری آبادیوں پر حملے کیے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکے تہران کے مشرق اور جنوب مشرقی علاقوں میں کیے گئے ہیں جبکہ جنوب مغربی خوزستان صوبے کے شہر اہواز میں بھی کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔ اسی طرح تہران میں ہیلی کاپٹر فیکٹری اور بندر عباس پر بھی حملہ کیا گیا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں اسرائیل میں 27 افراد ہلاک جبکہ ایران میں 227 شہادتیں ہوچکی ہیں۔دوسری جانب چین اور امریکاکی قیادت کے نئے بیانات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے، دو دن میں سب پتا چل جائے گا ،ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران پر دباو? میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیا، انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں،اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے، آپ کو اگلے دو دنوں میں سب پتہ چل جائے گا، کسی نے ابھی تک سست روی نہیں دکھائی۔اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو ہم بہت سخت جواب دیں گے، اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس آیا تو وہ وٹکوف یا جے ڈی وینس کو ایران بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ میں جنگ بندی سے بہتر حل کی تلاش میں ہوں، ایران بات کرنا چاہتا ہے تو اسے پتا ہے مجھ سے کیسے بات کرنی ہے، تہران سے انخلا کی تنبیہ شہریوں کو ان کے تحفظ کے لیے کی تھی۔ خواہش ہے کہ ایران مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے۔جبکہ چینی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو جلتی پر تیل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملوں سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔دھمکیوں سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا اور صورتحال کو پرسکون بنانے کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد حل ہے، انہوں نے اشارہ دیا کہ بیجنگ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔مزید برآں اسرائیل میں چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے فوری انخلا کی ہدایت کردی۔چین نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر فوری طور پر ملک چھوڑ دیں کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع بڑھتا جا رہا ہے، جس سے سکیورٹی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔چین کا کہنا ہیکہ چینی شہری اردن کی طرف نکل جائیں۔