سستی سبزیاں اور پھل مگر غذائیت میں گراں قدر

نازیہ آصف 

 "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو  جھٹلاؤ گے" 

اللہ پاک نے جب حضرت انساں کو پیدا کیا تو اس کے فرشتوں نے اسے کہا " یہ زمیں پہ فساد پھیلائے گا "
مگر اللہ پاک نے اپنی کائنات کو رونق بخشنے کے لیے نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اسے  انواع و اقسام کی  نعمتوں رحمتوں  کے پروٹوکول کے ساتھ اس جنت ارضی پہ اتارا۔
مقام غور وفکر ہے کہ اس اشرف المخلوقات کے علاوہ اس روئے زمیں کی ہر مخلوق نے مل بانٹ کر کھایا۔
 کوے کو روٹی نظر آء تو اس نے کائیں کائیں کر کے سب کو متوجہ کیا۔ اسی طرح باقی چرند پرند حسب ضرورت کھا کر باقی ادھر ہی چھوڑ جاتے ہیں ، ذخیرہ کرنے کی خو صرف حضرت انسان کی ہے۔ 
 خالق کائنات کی تقسیم بہت اعلی ہے۔ اس نے ہر خطے کو کچھ امتیازی خصوصیت سے نوازا ہے۔کہیں گرم موسم کے ساتھ ٹھنڈے پھل تو کہیں ٹھنڈے ٹھار علاقوں کو گرم میوہ جات سے فضیلت دی ہے۔ہرعلاقے کے باشندوں کی ضروریات زندگی ان کے موسموں کے حساب سے پیدا کی ہیں۔ اسی طرح اس کی قدرت کاملہ نے پھلوں میں غذائی اجزاء￿  کی تقسیم میں بھی بڑی فراخدلی کا ثبوت دیا یے۔جب ہمارے میدانی و گرم علاقوں میں تربوز پک رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف انھیں بلند و سرد علاقوں میں اخروٹ ،بادام، چلغوزوں جیسی سوغاتیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ہم جب فالسے  اور آم جیسے پھلوں کے مشروبات اور آئس کریم تیار کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف خوبانی انجیر اور انگور کو خشک کر کے سرد ترین موسم  کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہوتا یے۔ہم جب موسم گرما میں کدو ٹینڈے اور  کھیرے اگا رہے ہوتے ہیں تو وہ ہزاروں میٹر کی بلندیوں پہ مٹر سرخ لوبیا اور آلو مکئی اگائے جا رہے ہوتے ہیں۔
قارئین! مہنگاء کے اس دور میں،  اگر میں یہ کہوں کہ  اس مہنگاء کو ہمارے رویے، سوچ اور تن آسانی نے بھر پور بڑھاوا دیا یے،  تو ہرگز غلط نہیں ہوگا۔ اگر کسی کو بلحاظ بیماری یا کمزوری کچھ کھانے کا مشورہ دیا جائے تو وہ سب سے پہلے مہنگاء کو کوسے گا۔ارے بھاء  یہ قطعا ضروری نہیں کہ آپ چار پانچ ہزار روپے کلو کاجو پستہ یا چودہ، سولہ ہزار روپے کلو چلغوزے خرید کر کھائیں تبھی ہماری کمزوری اور غذائی ضروریات ہی پوری ہو سکتی ہیں۔اللہ پاک نے  پھلوں اور سبزیات میں غذائی اجزاء￿  کی تقسیم میں بھی اعتدال قائم رکھا ہے۔روغنی اجزاء￿  سے بھر پور  بیج ، دالیں ، ریشہ دار غذائیں(فائبر) حیاتین (وٹامنز) نشاستہ دار اور پروٹین سے بھرپور  غذائیں بہت سستے داموں بھی دستیاب ہیں۔ آپ کاجو پستہ بادام نہیں کھا سکتے تو مختلف اقسام کے بیج، سنگھاڑا، مونگ پھلی اور سیاہ خشک املوک تو کھا سکتے ہیں ،گوشت نہیں تو دالیں اور لوبیہ کم مصالحہ جات، کچی پیاز اور سلاد کے ساتھ کھائیے۔ 
آپ سیب،  انار نہیں افورڈ کر سکتے تو شلجم ،مولی ، بندگوبھی، پالک، میتھی اور ساگ کھائیے۔ اسی طرح مٹن یا بیف بھی پہنچ سے دور ہے تو دالیں پروٹین کا خزانہ ہیں، مختلف اقسام کے لوبیے ، بھنی مکء اور کالے چنوں سے دل بہلائیے۔
 آپ سستے ترین غذائی خزانے کی اہمیت دیکھیے کہ  غذائی کمی کا شکار بچوں کی اچھی صحت کے لیے عالمی ادارہ صحت نے مونگ پھلی ہی تجویز کی ہے۔ آئیے مونگ پھلی اور چلغوزے کی غذائی افادیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

 غذائی اجزاء￿ó۔۔۔۔۔مونگ پھلی۔۔۔۔۔  چلغوزہ
 100۔(گرام مونگ پھلی)کیلوریز۔ ۔۔۔ 567۔۔۔۔ 673
 پروٹین۔۔۔۔۔۔۔۔    26 گ.۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔  14 گ
چکناء۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 49 گ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 67 گ
کاربوہائیڈریٹس۔۔۔16 گ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔13 گ
فائبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8.5 گ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3.7گ

جاڑے کی سرد راتوں میں  سوندھی سوندھی خوشبو والی مونگ پھلی کھانا سب کو اچھا لگتا یے مگر کچھ لوگ اس سے کھانسی لگ جانے کی شکایت کرتے ہیں تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مسلہ مونگ پھلی میں نہیں، ہمارے کھانے کے طریقہ کار میں ہے۔مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی نہیں پیجیے بلکہ گڑ کی ڈلی یا ریوڑی منہ میں ڈالیے۔
 رنگ اور شکل سے قطع نظر ، افادیت سے بھرپور اور سستا ترین آبی  پھل  "سنگھاڑا" غذائیت کی دنیا میں کوء دوسرا پھل اس کا مقابلہ کرنے سے کوسوں دور ہے۔ سردیوں کے موسم میں جب ہم پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں تو سنگھاڑے میں موجود  %74 پانی ہماری جلد اور خون کی شریانوں کو پانی کی کمی کے مسائل سے دو چار ہونے سے بچاتا ہے۔
 آدھا کپ سنگھاڑوں میں پوٹاشیم کی وافر سطح اور 0.1 گرام فیٹ کولیسٹرول کو کم ترین سطح پر رکھتے اور دل کو تقویت دیتے ہیں۔ اس میں موجود کیلشیم ، میگنیشیم ،دماغ کی صحت کا ضامن  اور اعلی قسم کا فائبر میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہوئے بھوک اور وزن کو اعتدال پہ رکھتا ہے۔مہنگاء کے اس دور میں زچگی کے بعد اس کے آٹے کا استعمال خواتین کے لیے ایک بہترین چیز ہے۔
اللہ پاک کی تخلیق کی گء کوء بھی چیز معمولی نہیں ہے مسلہ ہماری سوچ میں ہے کہ ہم نے مہنگے کپڑوں اور جوتوں کے برینڈز کی طرح مہنگے پھلوں کو ہی غذائیت کا منبع سمجھ لیا ہے۔
ایک دوسرا سستا اور غذاء لحاظ سے مہنگا ترین پھل سیاہ، خشک املوک بھی ہے۔ جو ویسے تو  سرد پہاڑی علاقوں میں اگتا ہے مگر ہمارے ہاں پنجاب میں جاڑے کے اس موسم میں اکثر ریڑھیوں پہ نظر آتا ہے۔
یہ پھل وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے جو ہماری نظر کو تقویت اور قد کی بڑھوتری اور قوت مدافعت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آجکل بڑے ہی نہیں بچے بھی نظر کی کمزوری کا بڑی شدت سے شکار ہو رہے ہیں۔تو یہ سستا سا پھل وٹامن اے کی صورت میں ہماری نظر کو تادیر بحال رکھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ فائبر اور وٹامنز سے بھرپور ہے۔ قبض کشا ہے ، پٹھوں کی اکڑن، گلے کی سوزش، خراش دماغی عارضے،اور سب سے بڑھ کر یہ دل کے لیے بھی بہت مفید یے۔اس کے بیج نکال کر اس میں  دودھ شامل کر کے اس کی غذاء افادیت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
ان کے ساتھ ساتھ  السی کو مت بھولیے۔ دو چمچ السی میں چھ گرام فائبر اور چار گرام پروٹین موجود ہے، جو آپ کے جسم کی باقی جملہ ضروریات کے ساتھ ساتھ نیند کی خرابی کو بھی دور کرتی ہے۔ کدو کے بیجوں میں موجود میگنیشیم معدے کی جلن میں بہترین ٹانک ہے۔ اس کے علاؤہ کدو کے بیج بلڈ پریشر کو نارمل اور قوت مدافعت کو تقویت دیتے ہیں۔
اسی طرح وٹامن اے اور ای سے بھرپور ایک اور سبزی اللہ پاک کی خاص نعمت جو سردیوں میں ہمارے ہاں جابجا  ریڑھیوں پہ بکتی نظر آتی ہے  وہ ہے ہماری بیناء کی طاقت، شکرقندی ،جو  اندھے پن کو روکتی ہے۔
 دو سو گرام چھلکوں سمیت آگ پہ بھنی ہوئی شکر قندی سے ہمیں دن بھر کے لیے درکار وٹامن اے دستیاب ہو جاتے ہیں۔
 ہمیں  200گرام شکر قندی سے 180 کیلوریز, 41.4کاربوہائڈریٹس 4 گرام پروٹین ، 0.3گرام چکناء اور 6.6 گرام فائبر حاصل ہوتا ہے۔ یہ قدرت کا وہ نایاب تحفہ ہے کہ جس میں فائبر بھی دو اقسام کا پایا جاتا ہے۔فائبر میں  طویل العمری اور صحت مندی کا راز پوشیدہ ہے۔ لیکن خیال رہے کہ فائبر کی مقدار میں ہمیشہ بتدریج اضافہ کریں۔ شکرقندی میں موجود کچھ  ایسے مرکبات بھی ہیں جو خواتین میں osteoporosis ,(ہڈیوں کا بھربھرا پن) کے عمل کو سست کر کے قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں اس کے علاوہ یہ گنٹھیا جیسے تکلیف دہ مرض سے بھی بچاتے ہیں۔ بازار میں ستر اسی روپے کلو  بکنے والا یہ بظاہر سستا سا پھل غذائیت کے حوالے سے گرانقدر ہے۔
ہمارا  یہ طرز فکر ہمیں بہت گھاٹے کی طرف لے جا رہا ہے  کہ ہم نے مہنگے پھلوں اور سبزیات کو ہی غذا کا مرکز مان لیا ہوا ہے۔ کسی نے کہہ دیا 
An apple  a day , keeps the doctor away.

تو ہم نے بغیر تحقیق کیے اندھا دھند اس کی تقلید شروع کر دی۔ عصر حاضر کے گوناگوں مسائل میں یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے نظریات کی چھان بین کر کے زندگی کو آسان کیا جائے۔
ہم غذاء دنیا میں کیوں نہ اپنے دیسی سیب شلجم کو اس کا جائز حق دیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 
 سیب میں اگر %8 فیصد آئرن ہے تو شلجم میں%36، 
  سیب میں فائبر %9 ،  شلجم میں %13،  زنک سیب میں %2 اور شلجم میں %21  تک پایا جاتا یے۔
 ہماری ہڈیوں کے لیے  بہترین اجزاء￿  پوٹاشیم اور   فاسفورس،  سیب میں بالترتیب  %12  شلجم میں  %39 اور فاسفورس %7 اور شلجم میں %33  کی حد تک موجود ہوتا یے۔
قارئین! یہ چند غذاء اجزاء￿  ہیں باقی بہت سارے غذاء اجزاء￿  کے معاملے میں بھی شلجم بہت آگے ہے۔ضرورت یے اس علم اور خود اعتمادی کی ، جو مہنگے پھلوں اور سبزیوں سے متعلق ہمارے احساس کمتری کو ختم کر سکے۔ سیب چار سے پانچ سو روپے کلو جبکہ شلجم مارکیٹ میں سو کا دو کلو بھی بک رہا یے۔ یاد رکھیے کھانے میں اعتدال رکھنا لازم ہے ، کسی بھی غذا میں اضطراب ہمیں نقصان پہنچا سکتا یے۔بیتر طریقہ یہ ہے کہ شلجم کھانے کے بعد بھی تھوڑا سا گڑ کھا لیجیے 
گڑ بذات خود بہت فائدہ مند چیز یے یہ ہاضمے کو بہتر بنا کر خون کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ سرسوں کے ساگ کا سیزن عروج پہ ہے۔یہ سستی سی سبزی ایک طرف سردی کی دشمن ہے تو دوسری طرف خون کی کمی کے شکار لوگوں کے لیے نعمت متبرکہ یے اس میں موجود آئرن کی بڑی مقدار جسم کو طاقت بخشتی ہے 
ماہرین غذائیت کے مطابق ساگ کے ایک کپ میں  196کیلوریز، 613 ملی گرام سوڈیم 5.2 گرام پروٹین اور 9.7 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ غذائیت کے اس بے تاج بادشاہ میں % 205 وٹامن اے ، وٹامن سی %134 ،  کیلشیم %19 اور آئرن %33 پایا جاتا ہے۔ 
اسے پالک، میتھی کے ساتھ ملا کر پکانے سے اس کی غذائیت میں ہزار درجے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ہمارے پنجاب کے  دیہاتوں میں تو یہ اور بھی خوبصورت روایت ہے کہ ساگ کے کھیتوں میں ست کسی بھی خاتون کے ساگ توڑنے پہ منع نہیں کیا جاتا، یوں یہ تازہ ترین سوغات گھروں میں پہنچتی ہے اور دن بھر کی مشقت کے بعد جب اس میں مکھن یا دیسی گھی ملا کر پکایا جاتا ہے تو سونے پہ سہاگہ والہ مقولہ ہی اس پہ ٹھیک بیٹھتا ہے۔
قدرت کاملہ نے انسان کو نوازنے میں کوء کمی نہیں کی ، کمی کوتاہی ہماری سوچ میں پنہاں ہے۔ ہمیں مہنگے اور دور دراز سے منگوائے گئے خشک  میوہ جات کو دیکھ کر ترسنے اور خود کو ملامت کرنے کی بجائے مقامی پھلوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
ایک سیب کی بجائے کم ازکم سردیوں میں ہمیں ایک شلجم کے قول کو پروموٹ کرنا ہماری ضرورت ہے اور اسی چیز میں مہنگاء کا توڑ بھی ، 
 یاد رکھیے" کسی بھی چیز کو کثیر مقدار میں کھا لینا اس کے فائدے کی بجائے نقصان دیتا ہے پھل ہو یا سبزی اگر آپ پہلے نہیں کھاتے تو ان کی کھانے میں مقدار کو بتدریج بڑھائیے۔
اور دوسری بات کہ خرابی چیز میں نہیں ہوتی ہماری صحت کے مسائل ہوتے ہیں جو ہمیں کسی چیز سے نقصان پہنچتا ہے  یا ہمارا کھانے کا طریقہ کار نامناسب  ہوتا ہے جو ہمیں پریشان کرتا ہے۔ اعتدال میں زندگی ہے صحت ہے۔
نوٹ۔( یہ اعدادو شمار گوگل کی مختلف ویب سائیٹس سے لیے گئے ہیں )
[2:08 PM, 6/17/2025] Nazia Asif: ناز برداریاں 
باد صبا 
قلمکار