بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی فیلڈ مارشل
ملکی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا نمایاں کردار ہے، پاکستان میں دہشتگردی کے معاملے پر امریکہ اور بھارت ایک پیج پر نہیں، بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرانا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اس دہشتگردی کا مخالف ہے
پاکستان نے چین کا کچھ ایکیوپمنٹ استعمال کیا مگر اس میں بھی شک نہیں جس قدر عمدگی سے یہ کام افواج پاکستان نے انجام دیا، اس طرح اسے استعمال کرنا چین کیلئے بھی چیلنج ہوگا:واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
راولپنڈی (آئی این پی )پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے ملکی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا نمایاں کردار ہے، بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی اور جلد دنیا دیکھے گی کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے امریکہ کے سرکاری دورے کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں اوورسیز پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کی، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہونے والے سمندر پار پاکستانیوں نے آرمی چیف کا پرتپاک استقبال کیا۔پاکستانی تارکین وطن نے آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق کے دوران مسلح افواج کی شاندار کارکردگی، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو سراہا۔اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے سفیر قرار دیتے ہوئے ان کے اہم اور موثر کردار کی تعریف کی، انہوں نے ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں کامیابیوں سمیت اور پاکستان کی معیشت میں ان کے فعال کردار کا اعتراف کیا۔آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اوور سیز پاکستانیوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کا نمایاں کردار ہے، سمندر پار پاکستانیوں نے آرمی چیف کے ساتھ اپنے تجربات اور تجاویز شیئر کیں۔انہوں نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک محفوظ، خوشحال اور ترقی کرتے ہوئے پاکستان کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی اور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی۔ رپورٹ کے مطابق خطاب میں فیلڈ مارشل نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے رابطہ کرکے الزام تراشی کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان اس واقعہ کو دہشتگردی قرار دے جس پر اسے دو ٹوک اندازمیں بتایا گیا کہ بھارتی تسلط کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور ایسے واقعات دہشتگردی نہیں قرار دئیے جاسکتے۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ چار افراد کا الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے تو مقبوضہ وادی میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی اس وقت کیا کررہے تھے؟ ہر 10 کلومیٹر پر بھارتی چیک پوسٹ میں موجود اہلکار کیا کررہے تھے جو چار افراد 250 کلومیٹر چل کر پہلگام گئے، لوگوں کو قتل کیا اور واپس چلے گئے، کیا وہ چار لوگ سپرمین تھے اور کیا بھارتی فوج کی ناکامی پر اس فوج کی چھٹی نہیں کردینی چاہیے۔فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ بھارت پر جب واضح کیا گیا کہ پاکستان اس واقعہ کو دہشتگردی نہیں مانتا تو دھمکی دی گئی کہ پھر کارروائی کے لیے تیار رہیں مگر پاکستان دھمکی آمیز لہجہ خاطر میں نہیں لایا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے حملے کے بعد بھارت نیہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور کہا کہ بھارت نے جو کرنا تھا کرلیا، اب صبح 9 بجے بھارت بات چیت کے لیے تیار ہے جس پر اسے باور کرایا گیا کہ پاکستان نے جو کرنا ہوا کرلے گا، پھر فیصلہ کریں گے کہ بات کرنا ہے یا نہیں، اس دوران دنیا کی لیڈرشپ کے بھی فون آئے کہ پاکستان کارروائی سے اجتناب کرے مگر دنیا کو بتایا گیا کہ بھارت کے طیارے محض دفاع میں گرائے ہیں اور بھارتی جارحیت کا جواب ہر صورت دیا جائے گا، اس طرح عالمی مطالبات کے باوجود وطن کی حرمت اور قوم کے ناموس کیلیے پاکستان اپنے ارادوں پر قائم رہا۔فیلڈ مارشل نے حکومت اور افواج پاکستان کیدرمیان اس آپریشن میں ربط کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف سے جب صورتحال پر بات کی تو وزیراعظم نے دریافت کیا کہ لڑائی بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے کس قدر امکانات ہیں، ہماری طاقت کس قدر ہے، اس پر انہیں بتایا کہ ففٹی ففٹی چانسز ہیں کہ یہ لڑائی کسی بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے، شہبازشریف نے بلاتامل کہا کہ آپ بسم اللہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے، یہ ایک سیاسی لیڈر کا فنٹاسٹک (زبردست) ردعمل تھا۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے بھارت کے خلاف کارروائی کو آپریشن بنیان مرصوص نام دئیے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ائیر مارشل ظہیراحمد بابر سدھو کے ساتھ بیٹھے تھے اور ائیرچیف انہیں بتا رہے تھے کہ دفاع پاکستان کے لیے فضائیہ کیسے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور جوانوں کاجذبہ کس قدر بلند تھا، اسی جذبہ، ہمت اور الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے بھارت کیخلاف آپریشن کو قرآن کی آیت بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کا نام دیا۔بھارت کے خلاف جنگ میں چین کی مدد سے متعلق بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے چین کا کچھ ایکیوپمنٹ استعمال کیا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس قدر عمدگی سے یہ کام افواج پاکستان نے انجام دیا، اسی طرح اسے استعمال کرنا چین کیلئے بھی چیلنج ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح بھارت کے نظام کو ہیک کیا گیا،سسٹم کریش کرکے بجلی غائب کردی گئی، ڈیمز کے اسپل وے کھول دئیے، بی جے پی کی ویب سائٹ پر پاکستانی پرچم لہرائے، گجرات اور دہلی تک ڈرونز نے راج کیا، میزائل دفاعی نظام کو جکڑ لیا گیا اور فوجی اہداف کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ایک جوان نے میزائل کی رینج کچھ بڑھادی تو اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی فوجی ہدف ہی پر جا کرلگا جب کہ پاکستان نے صرف ان 6 بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے پاکستان پر میزائل فائرکیے تھے،لاک کیے جانے کے سبب اگر چاہتے تو 20 بھارتی طیارے مار گراتے مگر جنگ کیدوران اخلاقیات کا خیال رکھ کر مثال قائم کی گئی، یہ پانچ محاذوں پر جنگ تھی جن میں ہر محاذ پر ایک ساتھ اور مربوط انداز سے دشمن کو شکست دی گئی‘فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا پاکستان میں دہشتگردی کے معاملے پر امریکا اور بھارت ایک پیج پر نہیں، بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرانا چاہتا ہے جب کہ امریکا اس دہشتگردی کا مخالف ہے۔ملک کی اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ امریکا، یوکرین سے محض 400 سے 500 ارب ڈالر کے معدنی دھاتوں کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے، پاکستان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایک کھرب ڈالر کے ایسے ذخائر موجود ہیں، امریکا اگر سرمایہ کاری کرے تو ہر سال 10 سے 15 ارب ڈالر کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور یہ سلسلہ 100 سال تک جاری رہے گا،پاکستان چاہتا ہے کہ دھاتوں کی پراسسینگ پاکستان میں ہو تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے 5 برسوں میں پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا اور قیام پاکستان کے صد سالہ جشن یعنی 2047 میں اللہ نے چاہا تو یہ ملک جی 10 کا حصہ بن چکا ہوگا۔