جارج ابراہیم عبداللہ کو 40 سال بعد رہائی کا فیصلہ، لبنان ڈی پورٹ کیے جانے کی شرط

جارج ابراہیم عبداللہ کو 40 سال بعد رہائی کا فیصلہ، لبنان ڈی پورٹ کیے جانے کی شرط

پیرس: فرانسیسی عدالت نے لبنانی شہری جارج ابراہیم عبداللہ کی 40 سالہ قید کے بعد مشروط رہائی کا فیصلہ سنایا ہے، جس کے تحت ان کی رہائی اس وقت عمل میں آئے گی جب وہ فرانس چھوڑ کر لبنان واپس جائیں گے۔

یہ فیصلہ پیرس اپیلز کورٹ نے 25 جولائی کو سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عبداللہ کی رہائی کا عمل لبنان کو ان کی حوالگی کے بعد مکمل ہوگا۔

کون ہیں جارج ابراہیم عبداللہ؟
جارج عبداللہ لبنانی مسلح انقلابی تنظیم "فراکسن فار دی لبنیز ریولوشنری آرمی" (FARL) کے سابق سربراہ ہیں، جنہیں 1984 میں فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 1987 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جس کے بعد وہ یورپ میں سب سے طویل عرصہ قید میں رہنے والے سیاسی قیدیوں میں شامل ہو گئے۔

الزامات اور مقدمات کی نوعیت
جارج عبداللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے:

1982 میں پیرس میں امریکی فوجی اتاشی چارلس رے کو قتل کیا
اسی سال اسرائیلی سفارت کار یاکوف بارسیمنٹوف کو بھی ہلاک کیا
1984 میں فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں امریکی قونصل جنرل رابرٹ ہومے پر قاتلانہ حملہ کیا
عبداللہ ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے آئے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں ایک "سیاسی قیدی" سمجھتے ہیں۔

رہائی کی مخالفت اور قانونی جدوجہد
گزشتہ چالیس برسوں میں عبداللہ کی رہائی کی آٹھ درخواستیں جمع کرائی گئیں، جنہیں فرانسیسی عدالتوں نے مسترد کیا۔ امریکی محکمہ انصاف اور فرانسیسی پراسیکیوشن نے ان کی رہائی کی شدید مخالفت کی، خاص طور پر ان کے مبینہ دہشت گرد پس منظر کے باعث۔فروری 2025 میں ہونے والی ایک سماعت میں عدالت نے کہا تھا کہ عبداللہ کو متاثرین کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ دینے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔

آئندہ اقدامات
فی الحال جارج عبداللہ کے وکیل، لبنانی حکومت یا فرانس میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ان کی رہائی کے بعد انہیں لبنان ڈی پورٹ کیے جانے کی تیاری کی جائے گی۔