اڑان جیسے پروگرام سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی:شہباز شریف

 اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مسلسل سرپلس میں رہنا معاشی پالیسیوں کی درست سمت ہونے کی سند ہے‘ مثبت معاشی اعشاریئے کاروباری برادری کے حکومت اور اس کی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے  اعتماد کے عکاس ہیں
 کراچی اور تجارت کے دیگر بڑے مراکز پر عالمی معیار کے کارگو سکیننگ نظام قائم  کئے جائیں‘سمگلنگ روکنے کی بدولت اس سال افغانستان کو 211 ملین ڈالر کی چینی کی برآمد ممکن ہوئی:وزیراعظم کی اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم  شہباز شریف نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مسلسل تیسرے ماہ سرپلس رہنے کا خیر مقدم کیا ہے،وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مسلسل سرپلس میں رہنے معاشی پالیسیوں کی درست سمت ہونے کی سند ہے، رواں مالی سال کے پہلے چھے ماہ میں 1.2 ارب ڈالر سرپلس تھا، رواں مالی سال میں سرپلس کو مزید بڑھانے کے لیے متحرک ہیں، مثبت معاشی اعشاریے کاروباری برادری کے حکومت اور اس کی معاشی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے اعتماد کے عکاس ہیں، اڑان جیسے پروگرام سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔دریں اثناء پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے اور گارگو کی ٹریکنگ کے حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس ہوا۔ شہباز شریف نے کراچی اور تجارت کے دیگر بڑے مراکز پر عالمی معیار کے کارگو اسکیننگ نظام قائم کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تجارتی مراکز سے ٹریکنگ، ٹریسنگ اور اسکیننگ کے متروک نظام ختم کر کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل نظام کا نفاذ یقینی بنایا جائے جبکہ کارگو ٹریکنگ کی خدمات مہیا کرنے والے اداروں کی معیار کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ کے نظام میں بہتری سے اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے، سمگلنگ روکنے کی بدولت اس سال افغانستان کو 211 ملین ڈالر کی چینی کی برآمد ممکن ہوئی۔ مواصلات کے مربوط نظام اور کارگو کی بہتر ٹریکنگ سے پاکستان علاقے کے دیگر ممالک کے لیے راہداری تجارت کا مرکز بنے گا۔