ڈی ایس پی عثمان حیدر، اہلیہ اور بیٹی کے موبائل فونز کا کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کر کے تقریباً ایک ہزار موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال کی گئی
تحقیقاتی ٹیم نے ڈی ایس پی سے پوری رات تفتیش کی‘ جب تمام شواہد ایک ایک کر کے عثمان حیدر کے سامنے رکھے گئے تو وہ خاموش ہو گئے
لاہور(رپورٹ کاشف بٹ )اغوا کا ڈرامہ، دہرے قتل کی ہولناک کہانی: پنجاب پولیس نے حاضر سروس ڈی ایس پی کی واردات کیسے بے نقاب کی؟پنجاب پولیس نے رواں برس کے سب سے چونکا دینے والے اور لرزہ خیز مقدمے میں ایک ایسا معمہ حل کر لیا جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اغوا کی ایف آئی آر، بے بسی کا ڈرامہ اور وردی کا سہارا—لیکن انجام کار قاتل خود مدعی نکلا۔تفصیلات کے مطابق حاضر سروس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) محمد عثمان حیدر نے 18 اکتوبر کو تھانہ برکی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں 27 ستمبر سے لاپتا ہیں، موبائل فون بند ہیں اور سسرال والوں کو بھی کوئی اطلاع نہیں۔ایف آئی آر کے اندراج کے فوراً بعد پولیس نے اغوا کے روایتی طریقہ کار کے تحت تحقیقات شروع کیں اور ڈی ایس پی عثمان حیدر، ان کی اہلیہ اور بیٹی کے موبائل فونز کا کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) حاصل کر کے تقریباً ایک ہزار موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال کی گئی—کون کہاں تھا، کس سے رابطہ تھا، لوکیشن پیٹرنز کیا بتاتے ہیں—ہر زاویے سے کیس کو پرکھا گیا۔ مبینہ مغویہ کے قریبی رشتہ داروں، بہن، والدہ اور بہنوئی سے بھی پوچھ گچھ ہوئی، مگر نہ تاوان کا کوئی مطالبہ، نہ دشمنی اور نہ ہی کوئی دھمکی سامنے آئی کیس جوں کا توں کھڑا تھا کہ سی ڈی آر کے تفصیلی تجزیے میں ایک غیرمعمولی پہلو سامنے آیا 25 ستمبر کی رات ساڑھے دس بجے سے ساڑھے تین بجے تک ڈی ایس پی عثمان حیدر کا موبائل فون بند رہا۔پانچ گھنٹے تک ایک سینیئر پولیس افسر کا فون بند رہنا محض اتفاق نہیں تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تفتیش کا رخ اچانک مدعی کی جانب مڑ گیا۔پولیس نے شکوک کو ٹھوس ثبوت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
عثمان حیدر کے گھر کی فرانزک ٹیم کے ذریعے باریک بینی سے جانچ کی گئی بیسن، واش روم اور بیڈ سے نہایت معمولی مقدار میں خون کے آثار ملے یہی آثار تفتیش کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئے اس کے بعد سرکاری گاڑی کی باری آئی۔جب گاڑی کی فرنٹ اور بیک سیٹ کے کور اتار کر فوم کی جانچ کی گئی تو تفتیشی ٹیم کے سامنے وہ حقیقت آ گئی جسے چھپانا ممکن نہ تھاسیٹ کے اندر کافی مقدار میں خشک شدہ خون موجود تھا۔یہ وہ ثبوت تھا جس کے بعد تصویر بالکل واضح ہو چکی تھی اس کے بارے میں اعلیٰ افسران کو آگاہ کیا گیا جس کے بعد ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سید ذیشان رضا نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس کی سربراہی ایس پی ایاز حسین کو سونپی گئی اور ملزم کو حراست میں لیا گیا جس سے پوری رات تفتیش جاری رہی۔ جب تمام شواہد ایک ایک کر کے عثمان حیدر کے سامنے رکھے گئے تو وہ خاموش ہو گئے۔چند منٹ بعد صرف ایک جملہ ادا کیا‘‘مجھے شیخوپورہ لے چلیں۔’’ جس کے بعد رات کے تین بجے شدید دھند میں پولیس قافلہ سیالکوٹ موٹروے پر روانہ ہوا۔ کالا شاہ کاکو انٹرچینج کے قریب پہنچ کر ملزم نے اہلیہ کی لاش نالے میں پھینکنے کی نشاندہی کی ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ 5 اکتوبر 2025 کو اسی مقام سے ایک مسخ شدہ لاش ملی تھی جو امانتاً دفن کر دی گئی تھی۔اسی رات ملزم نے بیٹی کی لاش لاہور کے علاقے تھانہ کاہنہ، میلہ رام گاؤں کے قریب ندی میں پھینکنے کا اعتراف کیاریکارڈ کے مطابق 27 ستمبر 2025 کو وہاں سے بھی ایک نامعلوم نوجوان لڑکی کی لاش ملی تھی۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم نے دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ پہلی اہلیہ کے ساتھ علیحدہ گھر اور دوسری شادی کو لے کر تنازع شدت اختیار کر چکا تھا۔ بیٹی ماں کے حق میں کھڑی تھی۔25 ستمبر کی رات ڈنر کے بعد اسی بات کو لے کر رنگ روڈ پر گاڑی میں تلخ کلامی ہوئی جس پر ملزم نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اہلیہ کو دو فائر اور پچھلی سیٹ پر بیٹھی بیٹی کو ایک فائر مارا دوہرے قتل کے لیے سرکاری گاڑی اور ذاتی پستول استعمال کیا گیا۔لاشیں ٹھکانے لگانے کے بعد چند دن خاموشی اختیار کی گئی، پھر خود ہی اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا گیا تاکہ شکوک کسی اور سمت جائیں۔حکام کا کہنا مقتولہ کی والدہ کو شکایت کنندہ بنایا جا رہا ہے۔یہ دہرے قتل کا کیس ہے جس میں قانون کے مطابق دو بار سزائے موت ہو سکتی ہے اس حوالے سے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن سید ذیشان رضا کا دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہاچاہے کوئی بھی رینک ہو، جرم پر کوئی معافی نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔’’