پاکستان کے جج کو کلائمیٹ چینج پر بہت کچھ دیکھنا ہوتا ہے‘پاکستان سے کی گئی 100 بلین ڈالر کا وعدہ پورا نہیں کیا جا رہا ہے
کیا پاکستان بلائنڈڈ فنڈز پر کام کر رہے ہیں؟یہ سب ایگزیکٹو کے دیکھنے کا کام ہے،ہمیں کلائمیٹ ڈپلومیسی پر کام کرنا چاہیے: تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے انٹرنیشنل کلائمیٹ کورٹ قائم کرنے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے ملک کو شدید ترین موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کا سامنا ہے، پاکستان کے جج کو کلائمیٹ چینج پر بہت کچھ دیکھنا ہوتا ہے۔منگل کو یہاں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تقریب سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے کلائمیٹ چینج اتھارٹی کو ٹیک اپ کیا، پاکستان کی آئینی عدالتیں انوائرمنٹ کے معاملہ کو دیکھ رہی ہیں، ملک کو شدید ترین موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کا سامنا ہے، پاکستان کے جج کو کلائمیٹ چینج پر بہت کچھ دیکھنا ہوتا ہے،انھوں نے مزیدکہا ڈیزاسٹر مینجمنٹ و دیگر مسائل کو دیکھنا ہوتا ہے، کلر کہار میں سیمنٹ پلانٹ کا کیس سامنے آیا، اس میں کلائمیٹ چینج کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا، اس سے پانی کا مسئلہ بن رہا تھا، سی ڈی اے کیس میں کہا کے پلاننگ ماحول دوست ہونی چاہے، ماربل کرشنگ پلانٹس کو ری لوکیٹ کرنے یا اس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کہا،کلائمٹ فائنانس بہت ہی لازم ہوچکا ہے، کلائمیٹ فائنانس پاکستان کی جانب نہیں آرہا،کلائمیٹ فائنانس پبلک پرائیویٹ سیکٹرز سے کیا جا سکتا ہے،کلائمیٹ فائنانس ہی نیا کلائمیٹ جسٹس ہے،پاکستان کو ماضی میں بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا،کلائمیٹ فائنانس پر کام نہ کیا تو ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں بہت بڑا فرق پیدا ہوگا،کلائمیٹ سائنس پر پاکستان کی گرفت نہیں ہے،پاکستان سے کی گئی 100 بلین ڈالر کا وعدہ پورا نہیں کیا جا رہا ہے، گلوبل فنڈ پاکستان کی جانب نہیں آرہا،20 بلین ڈالر کا ہمیں نقصان ہوا کیا ہمیں ملا،ٹرک کی بتی کے پیچھے ہم اچھل رہے ہیں لیکن مل کچھ نہیں رہا، ہمیں کلائمیٹ میکنزم پر کام کرنا ہوگا،کیا پاکستان گرین کاربن بانڈز پر کام کر رہے ہیں؟کیا پاکستان بلائنڈڈ فنڈز پر کام کر رہے ہیں؟یہ سب ایگزیکٹو کے دیکھنے کا کام ہے،ہمیں کلائمیٹ ڈپلومیسی پر کام کرنا چاہیے، اسلامک کلائمیٹ فائنانس سامنے آرہا ہے،انڈونیشیا اور ملیشیا میں گرین سکوک پر کام ہوا،سعودی عرب میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں، پاکستان بھی سکوک بونڈز پر کام کر سکتا ہے،کیا حالیہ بجٹ میں کلائمیٹ چینج فنڈ پر کام ہوا؟کوئی ڈھانچہ ہی نہیں ہے جس کے ذریعہ کلائمیٹ چینج فنڈ کو دیکھا جا سکا، دیکھنا ہوگا کہ کلائمیٹ جسٹس پر عدالتیں کیا کرتی ہیں،عدالت حکومت کو کلائمیٹ چینج کے اوپر کام کرنے پر کہہ سکتی ہے، عدالتیں کوشش کریں گی کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ افراد کی بات سنی جائے،کلائمیٹ فنانس میں آنے والے فنڈز پر عدالتیں نظر رکھیں، فضائی آلودگی پاکستان کے لئے مسئلہ ہے،نیچر فائنانس سے فضائی آلودگی پر کام ہوسکتا ہے،انٹرنیشنل کلائمیٹ کورٹ قائم ہونی چاہیے،گرین کونسٹیٹیوشن کی سوچ لانی ہوگی،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو انسانی حقوق کا مسئلہ گرداننا ہوگا،میڈیا کو بھی موسمیاتی مسائل پر بات کرنی ہوگی۔