پنجاب میں سیلاب کا الرٹ پختونخوا میں 400اموات
بجلی ،مواصلات کا نظام بدستوردرہم برہم ، زیادہ اموات بونیر میں ہوئیں ،صوبائی حکومت کا 31 اگست تک فلڈ ایمرجنسی کا اعلان ،2 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل ،ریسکیو اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ ،گلگت میں نلتر ایکسپریس وے کابڑا حصہ بہہ گیا،سیاح پھنس گئے
پشاور ، ،لاہور،قصور(مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخوا میں کلائوڈ برسٹ سے بارشوں ، سیلاب ،لینڈ سلائیڈنگ ، آسمانی بجلی گرنے سمیت دیگر واقعات میں اموات کی تعداد 400ہوگئی ، 148 زخمی ہو چکے ہیں ،متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام تاحال درہم برہم ہے،امدادی کارروائیاں جاری، مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ، صرف بونیر میں 204 سے زائد افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے، صوبائی حکومت بونیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ علاقے قرار دے چکی۔ادھر گلگت بلتستان میں سیلاب سے نلتر ایکسپریس وے کابڑا حصہ ریلے میں بہہ گیا جس سے بیسیوں سیاح پھنس گئے۔دوسری طرف پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)پنجاب نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کی پیشگوئی کر تے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا ساتواں سپیل زیادہ مضبوط ہے اوربالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں سمیت کلائوڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق پختونخوا میں کلائوڈ برسٹ سے بارشوں، سیلاب، لینڈسلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونیوالی تباہی میں اموات کی تعداد 321 تک جا پہنچی جبکہ زخمیوں کی تعداد 28 ہو چکی ۔پختونخوا سمیت ملک بھر میں گزشتہ 6 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب سے حادثات میں 145 افراد جاں بحق،137زخمی ہوئے ،گلگت بلتستان میں 4 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے، جبکہ آزادکشمیر میں بھی 2 افراد جان سیگئے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے خیبرپختونخوا حکومت اور پی ڈی ایم اے کو مکمل معاونت فراہم کررہا ہے، متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے سمیت پاک آرمی اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی ٹیم امدادی کاموں میں معاونت اور نگرانی کے لیے پشاور میں موجود ہے،این ڈی ایم اے، مسلح افوا ج اور فلاحی اداروں کی جانب سے خیبر پختونخواہ کے لیے امدادی سامان روانہ کر دیا ہے ،امدادی سامان میں ایمبولینس،جنریٹر، کمبل، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس، راشن اور خشک دودھ شامل ہے ۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے بھی سوات، باجوڑ اور بونیر میں فلڈ ریلیف آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور راشن و ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے، پاک فوج کے مزید دستے بھی بونیر پہنچ گئے ، فوج کی کور آف انجینئرز کے سپیشل آلات کے ذریعے کیچڑ کے نیچے دبے زخمیوں اور لاشوں کو نکالا جائے گا جبکہ انجینئر کور کے دستے پْلوں کی بحالی کیلئے بھی پہنچ گئے ہیں۔ تمام متاثرہ اضلاع میں متاثرین کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے تک آپریشن جاری رہے گا۔ این ڈی ایم اے، پاک فوج کی امدادی کارروائیوں میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اہلکار، رضار بھی شامل ہیں، کئی علاقوں میں جاں بحق افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جبکہ لوگ گھروں، دکانوں کی صفائی میں مصروف ہو گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20.20 لاکھ امداد دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ترجمان این ڈی ایم اے کیمطابق شمالی علاقہ جات میں ممکنہ بارشوں کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں مزید اضافے کا امکان ہے ، عوام بارشوں اور سیلاب کے دوران محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، سیاح اگلے 5 تا6 روز تک شمالی علاقہ جات کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ جبکہ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے ۔پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اب تک 3567 افراد کو بچایا جا چکا جبکہ 3817 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں 545 اہل کار اور 90 گاڑیاں و کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔دوسری جانب ریسکیو 1122 کے مطابق بونیر کی 3 تحصیلوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں ملبے تلے دبے افراد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر امدادی کام جاری رکھا اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا عمل بھی جاری ہے۔ادھر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے جاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 74 گھروں کو شدید ، 63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 11 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں ۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ صوبے کے 11 اضلاع کلائوڈ برسٹ اور سیلاب سے متاثر ہوئے، متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 ہزار817 ہے ، 545 ریسکیو اہلکار اور90 گاڑیاں اور کشتیاں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بونیر میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 204 جانوں کا ضیاع ہوا،120 افراد زخمی ہوئے ۔شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 23، سوات 22، باجوڑ میں 21، بٹگرام میں 15، لوئر دیر میں 5 جبکہ ایبٹ آباد میں ایک بچہ جاں بحق ہوا۔ بونیر میں کئی افراد لاپتا ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق باجوڑ میں کلاوڈ برسٹ کے بعد سیلاب کئی گائوں بہا لے گیا ،ریلوں میں جانور اور گاڑیاں بہہ گئیں ، بونیر میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔وزیراعلیٰ ہائوس کے ترجمان فراز مغل نے کہا ہے کہ اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، چھوٹے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کے ذریعے پھنسے لوگوں کو نکالا جارہا ہے اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو سنٹرز اور کیمپس قائم کئے گئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں کشتیاں، لائف جیکٹس اور بنیادی سہولیات پہنچادی گئی ہیں۔علاوہ ازیں امدادی سرگرمیوں کے دوران کریش ہونیوالے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے 5 شہداء کی میتوں کی منتقلی کیلئے ورثا پہنچ گئے ہیں، گزشتہ روز صوبہ بھر میں یوم سوگ کے دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوںرہا جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے مہمند میں جائے حادثہ کا فضائی جائزہ لیا۔ دریں اثناء محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے تمام عملے کے اسٹیشن سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا جا سکے۔ ہائیر ایجوکیشن اور ضلعی انتظامیہ کو ریلیف کیمپوں میں سہولیات، سروے، کنٹرول رومز میں معاونت اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔دریں اثنا ء شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں بونیر، سوات، مالم جبہ، شانگلہ سمیت بیشتر علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ترجمان پیسکو کے مطابق سیلاب کے باعث صوبے بھر میں 41 فیڈرز بند ہوگئیتھے، سوات میں 23 فیڈرز پر بجلی بحال کردی، بقیہ 18 فیڈرز پر مرمتی کام جاری ہے۔ مالم جبہ کو بھی متبادل روٹ سے بجلی فراہم کر دی ، ضروری سامان مثلاً بجلی کے کھمبے، تاریں اور ٹرانسفارمرز سوات پہنچا دئیے گئے ہیں اور پیسکو کا اضافی عملہ بھی سوات میں تعینات کیا گیا ہے، گرے کھمبے اور ٹرانسفارمرز درست کئے جارہے ہیں، بجلی تنصیبات پر گرے درخت ہٹائے جا رہے ہیں۔ جبکہ فلڈ کنٹرول سیل کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف دریائوں میں پانی کے بہائو میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دریائے سندھ میں خیرآباد (اٹک)کے مقام پر درمیانے درجے،تربیلا میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ اورورسک میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیئے گئے ، دریا سندھ میں درمیانی درجے کا سیلاب ہے ، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1000 فٹ ریکارڈ ،تربیلا 5 پراجیکٹ پر کام عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔فلڈ کنٹرول سیل نے دریا کنارے آباد افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور اپنے مال مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر لے جائیں۔ ادھر وفاقی وزیر امیرمقام نے بونیر کا دورہ کیا اور وزیراعظم کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان کی تقسیم اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔دوسری طرف محکمہ ریلیف خیبرپختونخوا نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 31 اگست تک فلڈ ایمرجنسی نافذ رہے گی، ایمرجنسی والے اضلاع میں سوات،بونیر، تورغر، بٹگرام شامل ہیں، ایمرجنسی کا نفاذ باجوڑ، شانگلہ، مانسہرہ، دیر لوئر، دیر اپر میں بھی ہوگا، ایمرجنسی والے اضلاع کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو آگاہ کردیا گیا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سیگلگت بلتستان میں درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، سیلاب سے 318 گھر تباہ ہوئے اور 674 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق نلتر ایکسپریس وے کابڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا جس کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہونیسے نلتر میں سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس گئی۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نلتر ایکسپریس وے کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ جانے کے بعد نلتر میں واقع 3 بجلی گھروں کو بند کردیا گیا اور شہر میں بجلی کی سپلائی پھر سے معطل ہو گئی۔ ترجمان نیمزید بتایا کہ جگلوٹ گورو میں دریاکا پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہونے سے متعددگھراور ہوٹل زیر آب آگئے ہیں۔ استور میں ریلے سے تباہی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی شدید بارش سے نالہ جاگراں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں جاگراں میں 3 پل، 2 گیسٹ ہائوس سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں، کئی کلومیٹر سڑک بھی تباہ ہوگئی ، رتی گلی نالے میں سیلاب سے ایک کلومیٹر کی سڑک تباہ ہوئی، 500 سے زائد سیاح رتی گلی بیس کیمپ میں پھنس گئے جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں بھارت کی جانب سیچھوڑا گیا بڑا ریلہ پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث دریائے ستلج میں ضلع بہاولنگر کے علاقہ میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے دریائی بیلٹ میں فصلیں، ڈیرے زیرآب آگئے۔ ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا اخراج 70 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا اورقصور کی سیکڑوں ایکڑ فصلیں بھی زیرِ آب آگئیں جبکہ درجنوں آبادیاں متاثر ہوئیں اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جاری ہے۔تلوار پوسٹ پر ریسکیو، پولیس، ریونیو اور محکمہ انہار کے کیمپ بھی قائم کر ئدیے گئے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کو موثر بنایا جا سکے۔ جبکہ پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون سیلاب کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کردی۔ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری، راولپنڈی، سیالکوٹ اور بہاولپور میں بارش ریکارڈ کی گئی۔آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہے جبکہ بالائی پنجاب کے اضلاع میں کلاوڈ برسٹنگ کے بھی خدشات ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے جبکہ کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔