بحرالکاہل کے جزیرہ ملک فجی میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث حکومت نے وبا کو قومی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے، جہاں اب اندازاً ہر 60 میں سے ایک بالغ فرد ایچ آئی وی کا شکار ہے۔
فجی کے وزیر صحت ڈاکٹر راتو انتونیو لالابالاوو نے قومی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے معمول کی سطح پر اقدامات کافی نہیں، اس کے لیے حکومت، صحت کے اداروں، کمیونٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مربوط کوششیں ضروری ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فجی میں 2025 کے دوران ایچ آئی وی کے 2,016 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے 1,583 کیسز کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہے۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام تک مجموعی طور پر 5,676 تشخیصی کیسز ریکارڈ ہوچکے تھے۔حکام کے مطابق پانچ سال قبل فجی میں اندازاً ہر 167 بالغ افراد میں سے ایک ایچ آئی وی سے متاثر تھا، جبکہ اب یہ شرح بڑھ کر ہر 60 بالغ افراد میں ایک تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز UNAIDS کے مطابق 2025 میں فجی میں تقریباً 9,100 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، تاہم صرف 39 فیصد افراد کو اپنی بیماری کا علم تھا اور تقریباً 22 فیصد اینٹی ریٹرو وائرل علاج حاصل کر رہے تھے۔ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ساتھ ساتھ انجیکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال بھی اہم عنصر بن کر سامنے آیا ہے۔ UNAIDS کے مطابق معلوم ذرائعِ منتقلی والے کیسز میں نصف سے زیادہ جنسی منتقلی سے جبکہ 42 فیصد سے زائد انجیکشن کے ذریعے منشیات کے استعمال سے منسلک تھے۔
صورتحال کا ایک تشویشناک پہلو بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ بھی ہے۔ فجی کی وزارت صحت کے مطابق 2025 میں 67 بچوں میں نئے کیسز سامنے آئے، جن میں 59 کیسز ماں سے بچے میں منتقلی سے منسلک تھے۔ اسی سال ایچ آئی وی سے متعلق 117 اموات ریکارڈ ہوئیں، جن میں 17 افراد کی عمریں 15 سال سے کم تھیں۔ماہرین کے مطابق منشیات کے استعمال اور آلودہ یا مشترکہ سرنجوں کے استعمال سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ فجی میں ’’بلوٹوتھنگ‘‘ کے نام سے بیان کیے جانے والے ایک طریقے میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کے درمیان انجیکشن یا سرنج کے ذریعے منشیات منتقل کی جاتی ہیں، جس سے خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔قومی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد فجی حکومت نے ایچ آئی وی کی اسکریننگ، علاج اور روک تھام کی سہولیات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پری ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PrEP) تک رسائی میں توسیع، سوئی اور سرنج پروگرام متعارف کرانے اور متاثرہ افراد کو علاج سے منسلک رکھنے کے اقدامات بھی کر رہی ہے۔
UNAIDS نے فجی کی جانب سے قومی بحران کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ادارے کے مطابق فجی میں 2010 سے 2025 کے درمیان نئے ایچ آئی وی انفیکشنز میں تقریباً 12 گنا اضافہ ہوا ہے۔