امریکی مرکزی بینک نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا

امریکی مرکزی بینک نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا

واشنگٹن: امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا، جس کے بعد فیڈرل فنڈز کی شرح 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں آگئی ہے۔

 فیڈرل ریزرو کے مطابق یہ جولائی 2023 کے بعد شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔فیڈرل ریزرو کے مطابق امریکی معیشت میں معاشی سرگرمیاں مستحکم رفتار سے بڑھ رہی ہیں، ملکی اخراجات میں لچک برقرار ہے جبکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور سرمایہ کاری مضبوط ہے۔ تاہم افراطِ زر اب بھی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے بلند ہے۔فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ مہنگائی مقررہ ہدف سے زیادہ ہے اور اسے 2 فیصد تک واپس لانا مرکزی بینک کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق حالیہ شرح سود میں اضافہ مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف کی جانب بروقت واپس لانے میں مدد دے گا۔شرح سود میں اضافے کے بعد امریکی بانڈ مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ حالیہ دنوں میں 5 فیصد کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے شرح سود بڑھانے کے فیصلے پر اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں شرح سود ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے۔

 ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا دنیا کا مضبوط ترین کریڈٹ رکھتا ہے اور ملکی معیشت میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اب دوسرے ممالک کا بوجھ برداشت نہیں کرے گا۔فیڈرل ریزرو کا تازہ فیصلہ بلند افراطِ زر پر قابو پانے اور قیمتوں کو 2 فیصد کے ہدف کے قریب لانے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں کا انحصار مہنگائی، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے تازہ اعداد و شمار پر ہوگا۔