پنجاب میں دریا معمول پر، سندھ میں تباہی

 گدو، سکھر میں اونچے درجے کا سیلاب ، ہزاروں افراد کی منتقلی ،کشمور ، شکارپور کے علاقے متاثر 
 سکھر سادھو بیلہ مندر یاتریوں کیلئے بند ،کئی حفاظتی بندٹوٹ گئے،درجنوں دیہات زیرآب 
 پاکپتن اورقصور میں متاثرین کی گھروں میں واپسی شروع، جلال پور پیر والا میں صورتحال گھمبیر 
 لاہورکی پانچ تحصیلوں میں 82 ہزار 952 افراد متاثر : رپورٹ تیار ، بلوچستان میں 4 بچے جاں بحق 
لاہور ،قصور، پاکپتن (خصوصی رپورٹ )پنجاب کے دریائے چناب، راوی میں پانی کا بہائو معمول پر آگیا ،ستلج میں درمیانے درجے جبکہ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے ، 24 گھنٹوں میں سندھ میں 3ہزار522 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ، کشمور اور شکارپور کے کچے کے علاقے شدید متاثر ، مکینوں کا محفوظ مقامات پر منتقلی سے انکار،کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹ گئے، درجنوں بستیاں ڈوب گئیں،ہزاروں ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ادھر این ڈی ایم اے نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن تیزکر دیا اور مظفر گڑھ کے متاثرین کیلئے مزید 5ہزار خیموں سمیت امدادی سامان روانہ کردیا۔دریں اثناء سیلاب سے نقصانات کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہورکی پانچ تحصیلوں کے 26 دیہات ، 82 ہزار 952 افراد متاثر ہوئے۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہائو نارمل اور 56 ہزار کیوسک ، خانکی پر 68 ہزار کیوسک ، قادر آباد پر 75 ہزار اورہیڈ تریموں کے مقام پربھی نارمل اور 80 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ پنجند پر پانی کا بہائو کم ہوکر2لاکھ30ہزار کیوسک پر آ گیا۔ دریائے راوی میں بھی پانی کا بہائو نارمل ہے۔دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا ، ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے درجے ، سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ علاوہ ازیں پاکپتن اورقصور میں دریائے ستلج کی حدود میں مزید پانی کی سطح کم ہو گئی،جس سے دریا کی حدود اور اردگرد رہائش اختیار کرنے والے مکینوں کی مشکلات میں کمی ہونے لگی ،متعدد لوگ واپس اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے ،شہریوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کی حدود کا ازسرنو تعین کروایا جائے ۔ ادھر ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا میں سیلابی صورتحال گھمبیر ہوگئی،دریائے چناب کے سیلابی پانی کا اخراج نہ ہوسکا اور ستلج کے سیلابی ریلے کے باعث دس روز سے شہر چاروں طرف سے پانی میں گھر اہوا ہے اور تحصیل بھر کا 90 فیصد سے زائد علاقہ سیلاب میں ڈوب چکا ہے ،دریائے چناب کا سیلابی پانی سامنے موجود ہونے کی وجہ سے دریائے ستلج کا سیلابی ریلہ دریا میں جانے کی بجائے نوراجہ بھٹہ سے ہوتا ہوا جلال پور کے مشرقی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اورسیلابی ریلہ کوٹلہ موڑ، چوکراں،کنڈیر کے علاقوں میں تباہی مچاتے ہوئے سوئی والا کی طرف جارہا ہے جبکہ پرمٹ روڈ، موضع صبرہ کے علاقوں کے ساتھ ساتھ گیلے وال روڈ کو کراس کرکے ملتان روڈ کے قریب پہنچ گیا اوراس نے شہر کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے، نئے زیرآب آنے والے علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ملتان سے اوچ شریف تک موٹر وے (جلال پور پیر والہ سیکشن)ٹریفک کیلئے فی الحال بند رہے گا۔جبکہ وفاقی سیکرٹری وزارت مواصلات انجینئر گل اصغر خان بگھور اور چیئرمین این ایچ اے شہریار سلطان کو سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورہ کے دوران جلال پور پیر والا کے مقام پر حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ کم از کم وقت میں ایم فائیو کی بحالی اولین ترجیح ہے، ایم فائیو کی بحالی کیلئے سرگرم ہیں۔ دریائے چناب اور ستلج میں غیر معمولی سیلاب کے باعث جنوبی پنجاب میں حفاظتی بندوں میں کئی جگہ شگاف پڑا، موٹروے پر سیلابی پانی سے 5 سٹرکچرز مکمل اور 4 سٹرکچرز جزوی طور پر متاثر ہوئے ،ایم فائیو موٹر وے پر یکطرفہ ٹریفک بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے مظفر گڑھ کیلئے مزید 5ہزار خیموں سمیت پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کیلئے امدادی سامان روانہ کر دیا ہے ، سکھر سے 8 ٹرکوں کے ذریعے 1100 خیمے، جلوزئی سے بھی 16 اور 15 ٹرکوں پر مشتمل دو قافلوں کے ذریعے 3900 خیمے مظفر گڑھ بھیجے گئے۔ پنجاب کو اب تک فراہم کردہ 2ہزار215 ٹن امدادی سامان میں کمبل، خیمے، مچھر دانیاں، پانی کے فلٹریشن پلانٹ، رضائیاں، فولڈنگ بیڈ، پانی کے کین سمیت 17 کشتیاں شامل ہیں ،پنجاب کے متاثرین کیلئے اب تک 35ہزار خیمے فراہم کئے جا چکے ہیں۔دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ گدو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے جبکہ کوٹری پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ گدو کے مقام پر پانی کا بہائو چھ لاکھ 24 ہزار کیوسک سکھر پر پانچ لاکھ 60 ہزار کیوسک ،کوٹری پر پانی کی آمد 284,325 کیوسک ہے۔علاوہ ازیں سکھر بیراج پر اونچے درجے کے سیلابی ریلے کے باعث کشمور اور شکارپور کے کچے کے علاقے متاثر ہوئے ہیں اورکئی متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے محفوظ مقامات پر منتقلی سے انکار کر دیا، ہزاروں ایکٹر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلابی پانی خیرپور میں بچائو بندوں ،گھوٹکی میں رونتی بچائو بند سے بھی ٹکرا گیا۔ سکھر میں دریائے سندھ کے بیچ میں قائم سادھو بیلہ مندر یاتریوں کیلئے بند کردیا گیا ، مندر کی سیڑھیاں اور کشتیوں کیلئے بنایا گیا پلیٹ فارم بھی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے علاوہ لاڑکانہ موریالوپ بند پر بھی پانی کا بہائو بڑھنے سے کچے کے مزید دیہات زیرِ آب آگئے جس کے باعث متاثرہ دیہات کی مجموعی تعداد 30 ہوگئی جبکہ لاڑکانہ سیہون بچا بند پر کچے کے مکینوں میں ملیریا اور جلدی امراض بھی پھیل رہے ہیں۔ اوباڑو کی یونین کونسل بانڈ اور قادر پور میں کچے کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، نوشہرو فیروز میں کمال ڈیرو کے قریب ماہی جو بھان کا زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ، 50 سے زائد دیہات ڈوب گئے۔نوڈیرو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ادھر صوبائی دارالحکومت لاہورمیں سیلاب سے نقصانات کی رپورٹ تیار کر لی گئی ،لاہورکی پانچ تحصیلوں کے 26 موضع جات اور مجموعی طور پر 82 ہزار 952 افراد متاثر ہوئے۔ تحصیل سٹی 4، راوی 9، علامہ اقبال 5، رائیونڈ 7 اور تحصیل واہگہ کا ایک موضع متاثر ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 7ہزار888 افراد کو محفوط مقامات تک پہنچانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت دی گئی، سیلاب میں پھنسے 36 ہزار 658 افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ، سیلاب سے لاہور میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ،ایک روڈ کو نقصان پہنچا، 16 ہزار 967 افراد کو طبی سہولیات دی گئیں۔ علاوہ ازیں این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے مختلف مقامات پر ملک میں 26 جون سے اب تک بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 992 تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہزار 64 زخمی ہوئے ،گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران بلوچستان کے علاقے کوہلو میں 4 بچے جاں بحق ہوگئے ،ابتک ملک بھر میں8 ہزار 441 مکانات متاثر، 2 ہزار 216 مکمل تباہ 6 ہزار 265 کو جزوی نقصان پہنچا، 239 پل اور 674 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں اب تک 6 ہزار 500 سے زائد جانور بھی ہلاک ہوچکے۔