ملک کے جید علما، مذہبی جماعتوں اور تاجر برادری نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتشار نہیں بلکہ استحکام موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
تاجر تنظیموں، علما اور سول سوسائٹی نے ٹی ایل پی کی "انتشار پر مبنی کارروائیوں" کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کالیں ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہیں۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے کا اظہار آئینی حدود میں ہونا چاہیے، جبکہ سڑکیں بند کرنا، جلاؤ گھیراؤ اور عوامی مشکلات پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مذہبی رہنماؤں کے بیانات
علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ موجودہ حالات انتشار نہیں بلکہ ملکی ترقی اور استحکام کی جانب توجہ کے متقاضی ہیں۔محمد آصف معاویہ سیال نے کہا کہ ٹی ایل پی کے احتجاج سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ریاست کے ساتھ تصادم افسوسناک ہے۔صاحبزادہ اکمل مہروی نے واضح کیا کہ وہ ریاست کے مخالف اقدامات کا ہرگز ساتھ نہیں دیں گے۔حافظ جمیل احمد نے کہا کہ اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے خلاف احتجاج یا فساد پھیلانا غیرمناسب ہے۔
سیاسی و تاجر برادری کا ردِعمل
سردار عبدالقدیر کھوسہ نے کہا کہ کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انتشاری عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔تاجر اظہر خان مغل نے کہا کہ ملک روز روز ہڑتالوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، ٹی ایل پی بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔جواد حسن گل قادری نے کہا کہ غزہ میں امن قائم ہوچکا، اب احتجاج اور ہڑتالیں بے معنی ہیں۔
علما و مذہبی شخصیات کی اپیل
سید افتخار الحسن گیلانی نے کہا کہ ملکی اداروں کا ساتھ دینا ہی امن و ترقی کا راستہ ہے۔مفتی ابوبکر نے کہا کہ ٹی ایل پی کا احتجاج بلاجواز ہے، ادارے ملک میں استحکام چاہتے ہیں۔حافظ محمد کفایت اللہ اور علامہ طاہر الحسن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پوری قوم شرپسند عناصر کے خلاف متحد ہے اور کوئی اندرونی یا بیرونی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔