دنیا کا طویل ترین نام رکھنے والا شخص جسے اپنا تعارف کرانے کیلئے 20 منٹ لگتے ہیں

لاہور(نیٹ نیوز)بیشتر افراد کے لیے تعارف کرانا ایک رسمی کام ہوتا ہے جو چند سیکنڈوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔مگر لورینس واٹکنز کے لیے یہ سادہ کام حیران کن حد تک مشکل ثابت ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا نام 2253 الفاظ پر مشتمل ہے اور اسے مکمل دہرانے کے لیے 20 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ایسا انہوں نے 1991 میں اپنی پہلی شادی کے موقع پر کیا جب ایک آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے ان کا نام دہرایا گیا۔جب مہمان وہاں کھانا کھا رہے تھے تو یہ ریکارڈنگ پلے کی جا رہی تھی۔نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ لورینس واٹکنز سکیورٹی گارڈ کا کام کرتے رہے اور اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔گنیز ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام حال ہی میں انہیں سب سے طویل ذاتی نام رکھنے والے فرد کے طورپر درج کیا گیا۔1965 میں لورینس گریگوری واٹکنز کے نام سے پیدا ہونے والے فرد کو ایک ٹی وی پروگرام Ripley’s Believe It or Not نے متاثر کیا تھا۔یہ دلچسپی بہت جلد گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز تک پھیل گئی جس کے ہر ورق کا انہوں نے مطالعہ کیا اور اپنا نام اس کے صفحات کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 'میں بہت حیران ہوا کہ کیسے ایک فرد نے دنیا کے تیز ترین مرد کا ریکارڈ قائم کیا، سب سے لمبے یا چھوٹے قد، لمبے بال، لمبے ناخن اور متعدد ریکارڈز حیران کن تھے'۔مگر بہت جلد انہیں احساس ہوا کہ ایک عام فرد جس کے پاس کوئی خاص صلاحیت نہیں، ریکارڈ بنانا بہت مشکل ہے۔تو انہوں نے دنیا کے طویل ترین نام کا ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیا۔ان کے بقول 'دوسرا آپشن شریک حیات کے درمیان قد کے فرق کا تھا، اس وقت یہ ریکارڈ ایک جنوبی افریقی شخص کے پاس تھا، جس کا قد 6 فٹ 2 انچ تھا جبکہ اس کی بیوی کا قد 3 فٹ تھا، مگر یہ مجھے بہت مشکل محسوس ہوا'۔ایک مہینے تک انہوں نے نام رکھنے کا فیصلہ کیا اور ایک ٹائپسٹ کو 230 ڈالرز دے کر انہیں ٹائپ کرایا۔ان کا نام اب بنیادی طور پر 2253 ناموں پر مشتمل ہے جو لاطینی، پرانے انگلش ناموں، مشہور شخصیات اور کتابوں سے جمع کیے گئے۔ان کا پورا نام 6 صفحات پر ٹائپ کیا گیا اور 1990 میں نام تبدیل کرنے کی قانونی درخواست جمع کرائی گئی۔ آک لینڈ کی ضلعی عدالت نے اس درخواست کو قبول کرلیا مگر پھر انہیں آخری رکاوٹ کا سامنا رجسٹرار جنرل کے سامنے ہوا۔لورینس واٹکنز کے مطابق 'رجسٹرار نے کہا کہ میں صرف اسی وقت نیا نام حاصل کرسکتا ہوں، اگر میں اسے ہائیکورٹ میں لے جاؤں"۔انہوں نے بتایا کہ 'اس وقت حکومت کے پاس ایسا کوئی قانونی جواز نہیں تھا جسے نام مسترد کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا، تو میں جیت گیا'۔2 سال بعد مارچ 1992 میں ان کا نام دنیا کے طویل ترین عیسائی نام کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بنا جو 2310 الفاظ پر مشتمل تھا۔ستمبر 2025 میں نام کے الفاظ کو دوبارہ گنا گیا اور اسے اب دنیا کے طویل ترین ذاتی نام کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈز کا حصہ بنایا گیا، جو 2253 انفرادی ناموں پر مشتمل تھا۔لورینس واٹکنز اب آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہیں اور روزمرہ کی زندگی میں وہ اپنا تعارف لورینس ایلون ایلوے واٹکنز کے طور پر کراتے ہیں، مگر برتھ سرٹیفکیٹ میں ان کا پورا نام 7 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور ان کے اوریجنل پاسپورٹ میں اس کے لیے 6 اضافی صفحات کی ضرورت پڑی۔انہوں نے 4 بار آک لینڈ کا میئر بننے کی کوشش کی اور ناکام رہے، مگر ان انتخابات کے لیے لارڈ ایرل ڈیوک کنگ سینٹ واٹکنز نام کو استعمال کیا گیا۔1990 میں ان کی ہائیکورٹ میں کامیابی کے بعد نیوزی لینڈ نے 2 قوانین کو تبدیل کرکے اس طرح نام کو طویل کرنے کا دروازہ بند کر دیا تھا۔اب وہاں شہریوں کو ایسے نام رکھنے کی اجازت نہیں جن میں سرکاری خطابات، عہدوں، نمبروں، سمبل استعمال کیے گئے ہوں یا 70 حروف سے زیادہ طویل ہو۔ویسے اگر آپ ان کا پورا نام پڑھنے کی ہمت رکھتے ہیں تو وہ نیچے پڑھ سکتے ہیں۔