مال بردار گاڑیوں کی قطاریں، تاجروں ،ٹرانسپورٹرز کو روزانہ کروڑوں کا نقصان
افغان تاجر اپنی طالبان حکومت پر برس پڑے،طورخم بارڈر کو کھولنے کا مطالبہ
کوئٹہ ،خیبر( مانیٹرنگ ڈیسک)پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر پانچویں روز بھی بند رہا، جبکہ کوئٹہ تا چمن ٹرین سروس معطل کردی گئی۔ پاک افغان شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ سرحدی علاقے میں کاروبار بند ہونے سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو روزانہ کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔طورخم بارڈر کی بندش سے زیادہ نقصان افغانستان کے عوام کا ہو رہا ہے اور تقریباً 10 ہزار کے قریب گاڑیوں کا سامان خراب ہونے کا خدشہ ہے۔تجارتی گزرگاہیں بند ہونے پر افغانیوں نے بارڈر کھولنے کی درخواستیں شروع کر دیں۔افغان تاجرپاکستان کیساتھ حالات خراب کرنے پر اپنی طالبان حکومت پر برس پڑے اور کہا پاکستان کیساتھ تجارت کھولو ، افغان تاجروں نے مزید کہا ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمسائیگی کے حقوق کے ناطے طورخم بارڈر کو کھول دے۔ادھر کوئٹہ سے چمن جانے والی ٹرین سروس پاک افغان سرحد پر کشیدہ صورتحال کے باعث عارضی طورپر معطل کر دی گئی ، ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس معمول کے مطابق اپنے شیڈول پر روانہ ہوئی ، کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل تین ہفتوں کے وقفے کے بعد گزشتہ روز کوئٹہ پہنچی، بولان میل آج جمعہ کو کوئٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوگی۔