لاہور(کرائم رپورٹر)ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ ملک میں ہونے والے 75 فی صد روڈ ایکسیڈنٹ موٹر سائیکلوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ،انہوں نے خبردار کیا کہ موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے چلانا، خصوصاً گاڑیوں کے درمیان سپیڈ لین میں چلانا، انتہائی جان لیوا عمل ہے۔ موٹر سائیکل کی رفتار اگر 50 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کرے تو حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں 2023 میں 3,967، 2024 میں 4,139 جبکہ 2025 میں اب تک 4,201 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو کہ ایک تشویش ناک اور بڑھتا ہوا خطرناک رجحان ہیحادثات میں کمی کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز، حکومتی اداروں، والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ہیلمٹ کا استعمال، بیک مرر کی موجودگی اور ٹریفک قوانین کی پابندی ضروری ہیں، تاہم اصل خطرہ اوور سپیڈنگ اور ٹریفک میں گاڑیوں کے درمیان سے گزرنے کے رویے میں ہے۔