بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف فیصلے سے پہلے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق دارالحکومت ڈھاکا سمیت کئی مقامات پر دستی بم حملے ہوئے، تاہم یہ حملے معمولی نوعیت کے تھے اور کسی جانی نقصان کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ڈھاکا پولیس کمشنر نے دستی بم پھینکنے والوں کو گولی مارنے کا حکم دیا ہے اور حساس مقامات پر فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔ ملک بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے تاکہ حالات قابو میں رہ سکیں۔دوسری جانب، حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے کہا ہے کہ اگر عوامی لیگ پر پابندی نہیں ہٹائی گئی تو وہ عام انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ حسینہ واجد کے خلاف کیس سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ آج بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل حسینہ واجد کے خلاف فیصلہ سنائے گی، جس میں ان کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے۔