عثمان ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی میں سُردخاک کیوں کیا گیا؟

عثمان ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی میں سُردخاک کیوں کیا گیا؟

بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما 32 سالہ شریف عثمان ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہیں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ترجمان شریف انقلاب منچہ کے مطابق یہ فیصلہ عثمان ہادی کے اہلِ خانہ کی خواہش پر کیا گیا۔ نمازِ جنازہ ڈھاکا یونیورسٹی کی مرکزی مسجد سے متصل مانک میا ایونیو پر ادا کی گئی، اور جنازے کے موقع پر میت کے دیدار کی اجازت نہیں دی گئی۔

ڈھاکا یونیورسٹی کے پروکٹر سیف الدین احمد نے بتایا کہ عثمان ہادی کو قاضی نذرالاسلام کے پہلو میں دفن کرنے کا فیصلہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب رات 10:30 بجے ہنگامی آن لائن اجلاس میں کیا گیا۔ یہ فیصلہ ڈویژن اور ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین (ڈکسو) کی جانب سے موصول ہونے والی دو درخواستوں کی بنیاد پر کیا گیا۔