ڈاکٹر جمشید نظر
شادی ایک مقدس سماجی معاہدہ ہے جو خوشحال اور مستحکم خاندانی زندگی کی بنیاد ہے ۔مالی مشکلات کی وجہ سے بہت سے نادار یا معذور والدین اپنی بچیوں کی شادی نہیں کرواپاتے جبکہ بہت سی ایسی بچیاں بھی ہیں جویتیم ،بے سہارا یا معذورہونے کی وجہ سے شادی نہیں کرپاتیں ۔ شادی کی منتظر بچیوں اور نادار والدین کی ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ایک ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب کی تاریخ میں سب سے بڑے اجتماعی شادیوں کے پروگرام ’’پنجاب دھی رانی‘‘ کا آغاز کیا جس کا مقصد مستحق والدین کو ان کی سماجی ،مذہبی ذمہ داری کو عزت و وقار کے ساتھ پوری کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اجتماعی شادیوں کے اس تاریخی منصوبے کے تحت اب تک پنجاب بھر میںہزاروں بچیوں کی شادی کے لئے اجتمائی تقریبات منعقد کی جاچکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت شادی میں شریک افراد کے لئے کھانے کا اہتمام کیا گیا اور بچیوں کو دو لاکھ بیس ہزار روپے کے تحائف جن میںفرنیچر،کپڑے ،ڈنر سیٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل تھیں دیئے گئے اس کے علاوہ اے ٹی ایم کے ذریعے دلہنوں کو کو ایک ایک لاکھ روپے کی سلامیاں بھی دی گئیں۔اجتماعی شادی کی تقریبات میں نوبیاہتا جوڑوں کاروائتی استقبال کرنے کے علاوہ والہانہ ماحول میں شرکاء کی تفریح کے لئے تقافتی رقص اورموسیقی کے پروگرام بھی پیش کئے گئے۔
پنجاب دھی رانی پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں میںستائیس اجتماعی شادی کی تقریبات منعقد کی گئیں جس میں ایک ہزار 3 سو94، بچیاں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئیں ،انھیںدو لاکھ بیس ہزار روپے کے روزمرہ استعمال کی اشیاء کے تحائف اور ایک ایک لاکھ روپے کی بذریعہ اے ٹی ایم سلامی دی گئی۔پنجاب دھی رانی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغازپچھلے ماہ اپریل میں ہواجس کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں میں بیس اجتماعی شایوں کی تقریبات میں مسلمان اور دیگر مذاہب کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار چار سو اسی بچیوں کی شادیاں ہوئیں جنھیں دو لاکھ بیس ہزار روپے کے تحائف اور ایک لاکھ روپے کی سلامی دی گئی۔لاہور ،قصور،شیخوپورہ اورننکانہ صاحب میں ایک سو بیس جوڑوں کی شادیاں انجام پائیں جن میں ایک معذور جوڑا اور چھ مسیحی جوڑے بھی شامل تھے جو اس پوگرام کے بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی ہم آہنگی کے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔
پنجاب دھی رانی پروگرام کے دوسرے مرحلے میں اس سال تین ہزار شادیا ںکروانے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ اگلے مالی سال دو ہزار پچیس۔چھبیس میں اس کا دائرہ کار تین ہزارسے بڑھا کر پانچ ہزارکردیا جائے گا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی شادیوں کے اتنے بڑے پروگرام کی مثال نہیں ملتی جس سے نہ صرف مسلمان گھرانے بلکہ دوسرے مذاہب کے خاندان بھی مستفید ہورہے ہیں۔پنجاب دھی رانی پروگرام سے مستفید ہونے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بہت ہی صاف شفاف نظام متعارف کرایا ہے ۔اٹھارہ سے چالیس سال تک کی عمر کی ایسی بچیاں جویتیم،مساکین یا معذورہیں یا ان کے والدین معذور ہیں وہ اس پروگرام میں شامل ہوسکتی ہیں۔پنجاب دھی رانی پروگرام کے لئے دلہن کا والد، والدہ، سرپرست یا خود دلہن درخواست دے سکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ درخواست گزار پنجاب کا رہائشی ہو۔بچیوں کے والدین قریبی سوشل ویلفیئر اور بیت المال دفتر جا کر درخواست جمع کرواسکتے ہیں یاسرکاری ویب سائٹ http://cmp.punjab.gov.pk پر دستیاب فارم بھر کر اس پروگرام سے مستفید ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ مزید معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1312 پر کال کی جاسکتی ہے ۔ پنجاب دھی رانی پروگرام عام طور پر سال کے مخصوص دنوں میں منعقد کیا جاتا ہے۔ شرکاء کو تقریب کی مقررہ تاریخ اور مقام کے بارے میں پیشگی ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کردیا جاتا ہے۔
درخواست کی رجسٹریشن مکمل ہونے پردرخواست دہندہ کو پیغام بھیجا جاتا ہے کہ آپ کی درخواست پنجاب دھی رانی پروگرام میں جمع ہو چکی ہے اور مزید معلومات کے لیے cmp.punjab.gov.pk لنک پر کلک کر کے آپ اپنے قومی شناختی کارڈ اور پاسورڈ کے ذریعے اپنی درخواست کو ٹریک کر سکتے ہیں۔تحصیل ویری فکیشن کمیٹی کے فیلڈ افسران دلہن اور دولہا کے گھر جا کر درخواست دہندہ کی تصدیق کرتے ہیںجس کی منظوری کے بعددرخواست دہندہ کو منتخب ہونے کا ایس ایم ایس بھیجا جاتا ہے ۔اس پروگرام میں دولہا خود کو رجسٹر نہیں کرواسکتاصرف دلہن لڑکی کو اس پروگرام میں رجسٹر کیا جا سکتا ہے۔تمام مذاہب کے لوگ اس پروگرام کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔اگر ایک والدین کی ایک سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ہر لڑکی اپنے شناختی کارڈ سے درخواست دے سکتی ہیں۔اجتمااعی شادی کی تقریب میںدلہن اور دولہا کی جانب سے کل 20 افراد شادی میں شرکت کر سکتے ہیں ۔دھی رانی پروگرام کے آن لائن درخواست فارم میں دولہے کی درست معلومات شامل کرنا لازمی ہے اگر یہ معلومات فراہم نہ کی جائیں تو درخواست آگے نہیں بڑھتی۔
پنجاب دھی رانی پروگرام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایک غریب پرور اور تاریخی اقدام ہے جو معاشرے کے کمزور طبقے کی خوشیوں کا ضامن بن چکا ہے۔ پنجاب دھی رانی پروگرام صرف شادیاںکرانے کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ایک ویلفیئر ریاست کی عملی تصویر ہے جو بھی ریاست مدینہ کا تصور دیکھنا چاہتا ہے وہ پنجاب دھی رانی پروگرام کودیکھ لے جس کی بدولت ہزاروں بچیاں عزت افزائی کے ساتھ اپنا گھر بسا رہی ہیں۔