ریڈیو کی اہمیت و افادیت

غلام علی جاوید
شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کو اپنی زندگی میں ریڈیو کی لت نہ لگی ہو ۔یہ ادبی دنیا کاوہ بے تاج بادشاہ ہے جس کے مقابلے والا آج تک کوئی معرض وجود میں آیا ہی نہیں۔الیکٹرانک میڈیا کی آمد سے قبل ریڈیو کومزاح اور آگاہی کا اکلوتا سہارا تصور کیا جاتا تھا۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوگا شہروں کے شور سے لیکر صحرائوںکی وسعتوں تک ریڈیو کی آواز گونجتی ہے۔ کہساروں کے کھلے بازئووں میں ریڈیو کی جھنکار ہی فضائوں میں رس گھولتی ہے۔کھیتیوں کے سبزے میں رنگ بھرتی ہے۔باغوں میں خوشبوئوں کا احساس ہے۔ یہ کسانوں کے دلوں کاوہ سازہے جو اُن کی تھکاوٹ میں اُن کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے ۔فوجیوں کی تسکین کا سُر ہے، فنکاروں کے فن کی بقاء ہے۔ ریڈیو رات کی تنہائی میںغمگسارہے جو کسی اپنے کی طرح پیار سے زلفوں میں ہاتھ پھیرے، سُلانے کی کوشش کرے، غم بھلانے کے جتن کر ے ۔یہ معلومات کا ذریعہ ، سفر کا ساتھی ،غم کی دوا ،ادیب کی جلا ، اپنوں کی ندا ، ثقافت کی ردا ، کسی حسین کی ادا اور گائیک کی صدا ہے۔
ٓ ریڈیو سستا، سادہ، اور آسان ترین ذریعہ ابلاغ ہے جونہ تیز ترین خبروں کا وسیلہ ہے بلکہ معلومات کی فراہمی کی بابت ایک مخلص دوست جیساہے۔اس کی علمی، ادبی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، تفریحی، آفاتی اورثقافتی خدمات کو سراہنے کے لئے پاکستان سمیت پوری دنیا میںآج ریڈیو کا دن منایا جارہاہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس کی خدمات کا اعتراف کیا جارہاہے۔
اسکو عالمی سطح پر منانے کا آغاز اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم UNESCOکے ذریعے2012میں کیا گیا تھا۔ریڈیو کا عالمی دن ہر سال 13فروری کو منایا جاتا ہے۔اسی مناسبت سے آج پوری دنیا میں یہ دن منایا جا رہا ہے ۔ عالمی دن منانے کا مقصددنیا والوں کو یہ شعور دینا ہے کہ ریڈیو نہ صرف علمی میدانوں میں خدمات سرانجام دے رہا ہے بلکہ ادبی حلقوں کی زینت بھی ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی بہترین رہنما ہے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں بھی برابر مقبول ہے۔ سماجی محفلوں میںبھی خوشبو بکھیرتا نظر آتا ہے۔ اگر مزید دیکھیں تو تفریحی سرگرمیوںمیں میزبان ہے۔ آفاتی لہروں کی پیشگی خبر ہے اورثقافتی خدمات کا منفرد راگ ہے ۔
اس دن کے موقع پر پوری دنیا میںمختلف پروگرامزمنعقد ہوتے ہیں ، خصوصی نشریات پیش کی جاتی ہیں ، ورکشاپس کا انعقاد ہوتا ہے ، سیمینارزاورمختلف مقابلہ جات کروائے جا تے ہیں۔ ہر سال ایک نیا تھیم متعارف کرایا جاتا ہے۔ 2026کے لئے ’’Radio and Artifical Inteligence‘‘ یعنی’’ ریڈیو اورمصنوعی ذہانت‘کا تھیم متعارف کرایا گیا ہے۔ کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے عالمی افق پر متواتراتار چڑھائو آرہے ہیں ۔ دنیا کو نت نئی ٹیکنالوجی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ کہیںایٹمی دوڑ کا شوروغل ہے اور کہیں مصنوعی مقابلوں کے آثار ہیں ۔ کہیںنئے نئے سافٹ ویئر کے قبضے ہیں ، کہیںجدید ٹیکنالوجی اپنی زلفیں کھولے کھڑی للکار رہی ہے ، کہیں یورینیم نے اپنے خیمے گاڑے ہیںتوکہیں مضبوط دفاعی نظام کے نگارے بج رہے ہیں۔ کہیںمیزائلوں کا جوبن سینہ تان کے کھڑا ہے۔ایسی صورتحال نے کئی نئے بحران کھڑے کر دیے ہیںجن کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیا ع ہوا ہے۔ اب دماغوں کی فوج لڑا کرے گی دماغوں کا ٹاکرا سر چڑھ کے بولے گا۔جو ملک ٹیکنالوجی میں آگے نکل جائے گا وہ دنیا کے ماتھے پر اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے گا۔ریڈیو نے بھی آرٹیفیشیل انٹیلی جینس کا مقابلہ کرنا ہے اورجدید تقاضوں کے رنگ میں ڈھلنا ہے۔ 
قیام پاکستان سے لے کر آج کی اس گھڑی تک ریڈیو پاکستان نے ملکی حالات پر پوری نظر رکھی ہے اور تسلی بخش آگاہی فراہم کی ہے۔ریڈیو پاکستان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک کے ہر طبقے کے لئے نشریات فراہم کرتا ہے اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ علاقائی زبانوں میںبھی معلومات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں تقریباً اُتنی ہی زبانوں میں پروگرامز نشر ہوتے ہیں ۔نہ صرف علاقائی و صوبائی زبانیں شامل ہیں بلکہ قومی و سرکاری زبانوں میں بھی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔ریڈیو پاکستان مون سون کی بارشوں کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کرتا ہے۔ روہی ، تھل ، تھر ، چولستان اورخاران میں خشک سالی کا پکا، سچا اور کھرا محقق ہے۔بلوچستان کے خشک علاقوں سے لیکر سمندر کی لہروں میں گھومتے ماہی گیروں تک رسائی رکھتا ہے۔ریڈیو پاکستان کا یہ خاصا رہا ہے کہ غیر جانبدار تبصروں سے قوم کی اخلاقی تربیت کرتا ہے۔ ایک اور بات کہ بلا تفریق رنگ ونسل، مذہب و عقیدہ ریڈیو نے مذہبی رواداری کو فروغ دیا ہے۔کھیل کے میدانوں میں تجزیوں اور تبصروں میں پیش پیش رہا ہے ۔ ریڈیو پاکستان ، چین پاکستان ثقافتی فروغ کے لئے بھی کام کر رہا ہے۔جہاںریڈیو بولتا ہے وہاںعلم کی شمع روشن ہوتی ہے اور جہاں علم کی شمع روشن ہو وہاں ادب پَلتا ہے ۔ریڈیو مزدور کی آواز ، انسان کا رفیق اورسچی خبرکاضامن ہے۔


 غلام علی جاوید