افسر اپنے اثاثے ظاہر کریں گے‘18سال سے کمر عمر کی شادی غیر قانونی قرار قومی اسمبلی میں بل منظور

گریڈ 17 سے 22 کے سول افسر اپنے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات ایف بی آر کو دیں گے‘سول سرونٹ افسر  اہلیہ اور زیر کفالت بچوں کے ملکی، غیرملکی اثاثے اور قرض کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے
لڑکا‘لڑکی کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی‘کوائف کے  بغیر نکاح رجسٹر کرنے یا پڑھانے پر ایک سال قید ایک لاکھ  جرمانہ یا دونوں سزائیں ، 18 سال سے زائد عمر کے مرد کی شادی پر کم سے کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہوگی

 کم عمر بچوں کی رضامندی یا بغیر رضامندی شادی کے نتیجے میں مباشرت  کو نابالغ فرد سے زیادتی تصور کیا جائے گا‘نابالغ دلہن یا دولہا کو شادی پر مائل یا مجبور کرنے، ترغیب دینے اور زبردستی کرنے والا شخص  زیادتی کا مرتکب قرار کہلائے گا

انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور،‘تحویل ملزمان، پاکستان شہریت ایکٹ، ٹریڈ آرگنائزیشن اور چائلڈ میرج پر پابندی سے متعلق بل بھی منظور‘سی ایس ایس امتحانات میں عمر کی حد 5 سال بڑھانے کی قرارداد منظور

اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی نے سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور کرلی جس کے تحت سول سرونٹ افسر  اپنے اور اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔رپورٹ  کے مطابق قومی اسمبلی نے  کئی بل منظور کیے ان میں سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم بھی منظور کرلی گئی ہے۔ترمیم کے بعد سول سرونٹ ایکٹ میں شق 15 کے بعد 15 اے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، بل کے تحت سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک کی جائیں گی، گریڈ 17 سے 22 کے سول افسر اپنے تمام ملکی اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔سول سرونٹ افسران اپنی اہلیہ اور زیر کفالت بچوں کے ملکی، غیرملکی اثاثے اور قرض کی تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے، سول سرونٹ افسران اپنے اور اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کریں گے، سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک ہوں گی۔دریں اثناء قومی اسمبلی نے کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا، 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج قانونی طور پر جرم قرار دے دیا گیا۔بل کے مطابق نکاح رجسٹرار کم عمر بچوں کی شادی کا اندارج نہ کرنے کے پابند ہوں گے، نکاح پڑھانے والا شخص نکاح پڑھانے یا رجسٹرڈ کرنے سے قبل دونوں فریقین کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز کی موجودگی یقینی بنائے گا۔بل کے مطابق بنا کوائف کے نکاح رجسٹر کرنے یا پڑھانے پر ایک سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی، 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی بھی جرم قرار ہوگی۔18 سال سے زائد عمر کے مرد کی کمسن لڑکی سے شادی پر سزا مقرر کردی گئی، کمسن لڑکی سے شادی پر کم سے کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہوگی، کمسن لڑکی سے شادی پر جرمانہ بھی ہوگا۔بل کے مطابق کم عمر بچوں کی رضامندی یا بغیر رضامندی شادی کے نتیجے میں مباشرت  کو نابالغ فرد سے زیادتی تصور کیا جائے گا۔ نابالغ دلہن یا دلہا کو شادی پر مائل یا مجبور کرنے، ترغیب دینے اور زبردستی کرنے والا شخص بھی زیادتی کا مرتکب قرار کہلائے گا۔نابالغ دلہن یا دلہا کی شادی کرانے پر 5 سے 7 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی، شادی کی غرض سے کسی بچے کو ملازمت پر رکھنے، پناہ دینے یا تحویل میں دینے والے شخص کو 3 سال قید مع جرمانہ سزا ہوگی۔18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر والدین اور سرپرست کے لیے بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، کمسن بچوں کی شادی کے فروغ، بدسلوکی یا شادی کے انعقاد پر والدین کو 3 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا ہوگی، شادی کے لیے کمسن بچوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور یا زبردستی کرنے کے عمل کو بچوں کی اسمگلنگ قرار دیا گیا ہے۔بچوں کی اسمگلنگ کے مرتکب شخص کو 5 سے 7 سال قید اور جرمانے کی سزائیں ہوں گی، 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی رکوانے کے لیے عدالت کو حکم امتناع دینے کا اختیار ہوگا، عدالت کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق مقدمات 90 روز میں نمٹانے کی پابند ہوگی۔بل وفاقی دارالحکومت میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔قومی اسمبلی میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مخالفت کی گئی۔انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔اس کے بعد، فرحہ ناز اکبر نے ایف بی آئی ایس ای ترمیمی بل 2024 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بل کی شق 3، 4 اور 6 میں ترامیم پیش کیں جو کثرت رائے سے منظور کی گئیں۔ ایف بی آئی ایس ای ترمیمی بل 2024 بھی کثرے رائے سے منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی میں تحویل ملزمان ترمیمی بل 2025، عطائے شہریت ترمیمی بل 2024، سول سرونٹ ترمیمی بل 2025 اور انسداد اغراق و محصولات ترمیمی بل 2025 بھی منظور کر لیا گیا۔پاکستان شہریت ایکٹ میں مزید ترمیم سے متعلق دو بل قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے۔ قومی اسمبلی سے منظور قوانین کے تحت پاکستان شہریت ایکٹ کی سیکشن 14اے اور سیکشن چار میں ترمیم کی گئی
قومی اسمبلی نے سی ایس ایس امتحانات میں عمر کی حد 5 سال بڑھانے کی قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی امیدوار کو پانچ مرتبہ مقابلے کی امتحان میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ سی ایس ایس امتحانات میں حصہ لینے والے امیدوار کیلئے زیا دہ سے زیا دہ عمر کی حد 30 کی بجائے 35 سال کی جائے۔قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی نوشین افتخار نے پیش کی، قومی اسمبلی اجلاس سوموار شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔