عاقب جاوید نے گیری کرسٹن کی چھٹی کروائی اور خود کوچ بن گئے،عبدالرئوف

لاہور (سپورٹس ڈیسک )سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرئوف خان نے عاقب جاوید کی پی سی بی میں طویل موجودگی اور کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ 2004-05سے یہ بھائی صاحب اکیڈمی میں موجود ہیں، کبھی بالنگ کوچ، کبھی ہیڈ کوچ، کبھی سلیکٹر تو کبھی ڈائریکٹر بن جاتے ہیں لیکن رزلٹ ہمیشہ صفر رہا۔ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے عاقب جاوید کا نام لیے بغیر ان کے حالیہ عہدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بھائی صاحب کبھی بالنگ کوچ، کبھی ہیڈ کوچ، کبھی سلیکٹر اور کبھی ڈائریکٹر بن جاتے ہیں، لیکن کارکردگی ہمیشہ صفر رہی ہے۔ عبدالرئوف خان نے کہا کہ پرفارمنس سب کے سامنے ہے، پہلے 2008 میں جیف لاسن کی چھٹی کروا کر خود کوچ لگے۔پھر سری لنکا، آسڑیلیا میں بدترین شکستوں پر فارغ ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ گیری کرسٹن کی چھٹی کروائی اور خود کوچ بن گئے، شکستوں کا سلسلہ جاری رہا، پھر سلیکٹر بن گئے، پھر جیسن گلیسپی کی چھٹی کروائی، پھر ساتھ ڈائریکٹر بھی بن گئے اور سلیکٹر بھی۔ سابق کرکٹر نے حالیہ ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی اور نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ واش ان کی سلیکشن کا نتیجہ ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ہونے والی تاریخی شکست بھی انہی کے دور میں ہوئی۔ عبدالرئوف خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اتنی ناکامیوں کے باوجود یہ مزید وقت مانگ رہے ہیں تاکہ "عظیم کام کر سکیں، لگتا ہے انہیں ابھی تک نہ سچا پیار ملا ہے اور نہ ہی مطلوبہ پیسہ۔