ہالی ووڈ کی مشہور سپر مین سیریز کی حالیہ ریلیز کے بعد دنیا بھر میں شائقین اور مبصرین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
متعدد ناظرین اور تجزیہ نگاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم میں دکھائے گئے مناظر، مکالمے اور کہانی اسرائیل مخالف اور فلسطین کے حق میں بیان کیے گئے ہیں۔
خیالی ریاستوں کی جنگ اور اصل تنازع کی عکاسی؟
فلم کی کہانی دو خیالی ریاستوں کے درمیان جنگ کے گرد گھومتی ہے۔ ایک ریاست کو طاقتور اور جدید اسلحہ سے لیس دکھایا گیا ہے، جو بین الاقوامی طاقتوں، خاص طور پر امریکا، کی حمایت سے کمزور ریاست پر حملہ آور ہوتی ہے۔ دوسری ریاست کو بےبس اور مظلوم دکھایا گیا ہے، جہاں خواتین، بچے اور عام شہری جنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔عرب میڈیا ادارے مڈل ایسٹ آئی کے مطابق طاقتور ریاست کی علامتیں امریکا اور اس کے اتحادیوں سے مشابہت رکھتی ہیں، جب کہ کمزور ریاست فلسطینی عوام کی طرح ظلم و ستم کا شکار نظر آتی ہے۔ترک نشریاتی ادارہ ٹی آر ٹی بھی اسی تناظر میں رپورٹ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ فلم میں کمزور فریق کے عوام پر ظلم، ان کی مزاحمت، اور عالمی بے حسی کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے، وہ موجودہ اسرائیل-فلسطین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
پروڈکشن ٹیم کا ردعمل
فلم کی پروڈکشن ٹیم نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:"یہ کہانی مکمل طور پر خیالی ریاستوں پر مبنی ہے اور اس کا کسی بھی موجودہ یا تاریخی ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔ فلم کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا ہے، نہ کہ سیاسی پیغام دینا۔"
شائقین کی رائے منقسم
کچھ شائقین کا ماننا ہے کہ فلم سازوں نے جان بوجھ کر اسرائیل-فلسطین تنازع کو بطور تناظر استعمال کیا ہے تاکہ ایک گہرا پیغام دیا جا سکے، جب کہ دیگر افراد اسے محض ایک تخیلی کہانی قرار دیتے ہیں جسے سیاست سے جوڑنا مناسب نہیں۔