طلعت بٹ
کرپشن اور رشوت جیسی لعنتیں ہر شعبہ اور ہر ادارے میں جنم لیتی رہتی ہیں جس کا سد باب آسان نہیں ہوتا۔ اسکی پاداش میں بنیادی طور پر ہر شہری مجرم بن جاتا ہے۔ گھر سے نکلنے کے بعد ہر شہری کو مجرموں سے پالا پڑتا ہے زندگی کے ہر شعبہ میں چور بازاری اور لوٹ مار کا بازار گرم رہتا ہے۔ دراصل یہ کمزوری کسی ایک شخص کی پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ نظام کی خرابیوں میں وہ لوگ شامل ہیں جن کا نام تک یاد نہیں ہاں مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس گندے نظام کو چند کالی بھیڑوںنے اپنے مفاد کی خاطر کچھ مفاد پرست لوگوں کی ساتھ ملا کر رائج کر دیا۔ پاکستان جیسے اسلامی جمہوری ملک میں ملاوٹ رشوت اور منشیات جیسی لعنتوں کو نافظ کرنے والے کچھ لوگ سیاسی اور کچھ عدلیہ اور انتظامیہ کے تھے۔ جہاں تک مجرمانہ کاروائیوں کا تعلق ہے اس کے بارے میں بیان کرنا بہت مشکل ہے مگر اس کو ختم کرنا بہت آسان ہے۔آگے چل کر اس کرپشن پر مزید بات ہوگی اور آخر میں اس پروگرام کا مقصد اور ترتیب سب کچھ بیان کرتا ہوں تھوڑا سا انتظار کریں۔ یہ کہنا کہ نظام فقط پاکستان میں خراب ہے غلط ہے یہ خرابی دنیا کے اکثر ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ میں نے کرپشن اور ملاوٹ کو اپنے پیدا ہونے سے پہلے بھی موجود پایا ہے سواتنی بڑی خرابی ایک صحافی یا شہری ٹھیک نہیں کر سکتا اس کام کے لئے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کی بھی جو نظام کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا مثبت کردار ثا بت کر یں اکثر ہم اتنا بڑا مشن لے کر چلے ہیں تو اپنے ہم خیال لوگ تلاش کرنا اور پھر پاکیزہ کردار کے شہری اپنے اپنے علاقوں میں trace کرنا یہ سب اس مہم کا لازمی جز ہے۔ یہاں تک تو ہم نے ایک پروگرام کے لئے کچھ ساتھی تلاش کر لئے اب اس کے آگے کیسے ممکن ہوگا کہ اس مشن کو عملی جامہ پہنا نہیں سو میرے دوستوں یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین اس کام۔میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس کام کو نقطہ چینی کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ جب تک کسی پروگرام کی معشت پر پر مشتمل مختلف دوستوں کی توجہ نہ ہو اور ہر علاقے میں سوشل ونگ نہ ہوں کوئی مشن کامیاب نہیں ہوتا اس طرح اگر اب تک ہم چند لوگ اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو یوں محسوس ہوگا کہ ہم نیا نظام بنارہے ہیں اس سوچ کو عملی طور پر کر دکھانے کی ہمت افزائی آپ کو میرے جیسے گنام ساتھی ہمیشہ کیلئے فراہم کرتے رہیں گے۔ سارا انتظام میرے پاکستانی دوست کم از کم مجھے پڑھنے والے اپنے ہاتھوں سے ہی کریں گے اسطرح بربادی کا منظر جو آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یکسر مسترد کر دیا جائے گا اور حقیقی جمہوریت بحال ہو جائے گی جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یادر ہے کہ آپ آپ اکیلیے نہیں ہیں۔ آپ کی صف میں ہر بہادر اور محب وطن پاکستانی شامل ہے ہر علاقے میں اخبار پڑھا جاتا ہے اور ہر محلے میں ایک یا دو افراد اس تحریر تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ پیغام پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچ سکتا ہے سوشل میڈیا یا ایڈورٹائزنگ پرنٹ میڈیا کے ذریعے سے یا پھر آپ دوستوں کی مدد سے جو یہ پیغام پڑھ رہے ہیں۔ آج چونکہ دوسرا کالم ہے اس لئے الفاظ استعمال کرنے میں کنجوسی کر رہا ہوں کیونکہ بہت سی باتیں چند سطروں میں ممکن نہیں ہیں۔ آپ میرے ساتھ مل کر ایک سوال پر کام کریں جواب بھی مل جائے گا۔ آپ اس وقت اکیلے نہیں ہیں آپ کے ساتھ میں بھی کھڑا ہوں آپ بلا خوف اپنے پاکستان کو بچانے کے لئے تیار رہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے اپنے علاقوں میں کوشش کریں آپ وطن سے محبت کرنے والے کو اپنے قریب ہی محسوس کریں گے۔ اس
شرط پر کہ آپ اب اکیلے نہیں آپ کے ساتھی ہمیشہ آپ کے ساتھ قدم ملا کر چلیں گے اور کامیاب ہونگے۔ اداروں میں کرپشن کی روک تھام
کیلئے تیار ایک منظم ٹیم اپنے اپنے علاقوں میں انصاف کی فراہمی کے لئے کام کرے تو یہ نظام چند دنوں میں ٹھیک ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ آپ ایک گروپ ہیں تنہا نہیں اور آپ کے علاقے میں وطن پرست وافر مقدار میں ہیں۔ جب تک آپ یکجا نہیں آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے یہ ادارے اور یہ حکران مگر اب ماحول بدل کر اپنے نمایندوں کو اپنا مشن عزیز رکھتے ہوئے اس پروگرام میں شامل کریں جلد ہی تبدیلی محسوس کریں گے۔ جس طرح ایک بات عیاں ہے کہ ایک مخلص ساتھی ایک ادارہ ہوتا ہے اسی طرح ایک ادارہ لوگوں کے ساتھ ان کی روح بن کر زندہ ہوتا ہے اور جب اداروں میں کام کرنے والے سچ کی آواز سنیں گے تو خود بخود آپ کا ساتھ دیں گے۔ان اداروں میں آپ جیسے لوگ کام کرتے ہیں کوئی آسمانی مخلوق نہیں جب آپ یکجا ہو کر اداروں میں انصاف کا عنصر پیدا کر لیں گے تو آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ کسی بھی محکمے میں سب سے بڑا عہدہ سنبھالنے والا بھی آپ کی طرح عوام ہی ہے اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ انصاف کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں کرپشن سے پاک اور رشوت سے عاری ادارہ ہی آپ کی حفاظت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اپنے دیس پاکستان کو بچانے کے لئے آپ ایک چھوٹے سے محلہ سے نکل کر پوری دنیا میں حق اور سچ کا پیغام پیش کرنے والے ہیں۔ جس ملک میں حق و باطل کی جنگ جاری ہو اور اس قوم کے افراد خاموش رہیں تو پھر انقلاب نہیں بلکہ غلامی کے سائے منڈلاتے رہیں گے میرے ساتھ مل کر اپنے دیس پیارے پاکستان کی آواز بنیں جلد ہی محسوس کریں گے کہ میرے بھیجے ہوئے پیغام میں انرجی کا عنصر نمایاں ہے یہ سارا نظام بدلے میں زیادہ وقت نہیں لکھا اور اصل اس سسٹم کو بدلے کی کوشش ہی نہیں کی گئی جو بھی سیاسی پارٹی بنی اس نے سیاست کی ملک سنوارنے کی بلکل جسارت نہیں کی میرے عزیز سا تھیو میرا آپ کو سیاست سکھانے کا کوئی موڈ نہیں بلکہ میں آپ کے حقوق اور اختیارات کی جنگ کیجانب راغب ہوں جس میں آپ اور اپنی نسلوں کا مفادشامل ہے۔ یہاں رکتے ہیں تھوڑا سانس لے کر اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ رکنے سے پہلے اپنی منزل کا یقیں رکھیں آپ کے شانہ بشانہ لڑنے والے ہاتھ ابھی سلامت ہیں۔