صائمہ ممتاز
مولانا ظفر علی خان ان چند گنے چنے اکابر میں سے تھے جنہیں قدرت کسی قوم کو اس وقت ودیعت کرتی ہے جب اس کی تقدیر بدلنا مقصود ہو۔ قائدا اعظم نے مولانا ظفر علی خان کے بارے میں فرمایا تھا کہ "اگر مجھے ایسے نڈر لوگ مل جائیں تو مسلمانوں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی" جبکہ علامہ اقبال نے مولانا کے متعلق ایک مرتبہ فرمایا کہ "میرے نزدیک مولانا ظفر علی خان غیر معمولی دل و دماغ کے مالک ہیں"اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے ایک قومی جلسے میں فارسی کی نظم پڑھی تو لوگ عش عش کر اٹھے۔ سر سید احمد خان نے اٹھ کر آپ کو گلے لگا لیا۔ مولانا بچپن سے ہی نماز کے پابند تھے مذہبی کاموں میں بڑی دلچسپی لیتے تھے ستائیس نومبر کو بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی انہترویں برسی ان کے مزار کرما آباد وزیر آباد میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔جس کا اہتمام پریس کلب وزیر آباد کے سرپرست اعلی حکیم راحت نسیم سوہدروی اور دیگر اراکین نے کیا تمام مقررین نے مولانا کی شخصیت پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار مدلل انداز میں کیا مقررین نے مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پریس کلب وزیر آباد ،اور البدر سوشل ویلفیئر سوسائٹی سوہدرہ کے اشتراک سے مولانا کے مزار کرم آباد کے احاطے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کی صدارت چیئرمین خالد محمود نے کی تقریب میں اعلی صحافتی خدمات اور میزبانی کے اعلی انتظامات پر مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کی طرف سے باباے? صحافت پریس کلب وزیر آباد کے صحافیوں کو شیلڈ اور دیگر اراکین کو میڈل پیش کیے گئے۔۔ جبکہ الحمرہ آرٹ کونسل میں بھی مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چیئرمین خالد محمود کی صدارت میں مولانا ظفر علی خان کی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ تقریب میں مختلف کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے شرکت کی اس کے علاوہ سلمان غنی ،سہیل وڑائچ ، عامر اقبال ، سلوٰی معین ،کاشف منظور ، ڈاکٹر کنول خالد ، رضا ریاض اور دیگر سیاسی ، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کے وائس چانسلر میاں عمران مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے آزادی? صحافت، قومی غیرت اور فکری بیداری کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کی۔ ہم اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بلائیں گے اورآج کے نوجوان کو بھی میرا یہی پیغام ہے کہ ہمیں اپنی ایسی ہستیوں کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے اپنا ایک مقام بنایا۔ اس تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ تقریب میں یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کی طالبہ نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے تیار کردہ دستاویزی فلم بھی پیش کی جسے شرکاء کی بڑی تعداد نے سراہا محترمہ رضا ریاض جو کہ حفیظ جالندھری کی صاحبزادی ہیں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج پاکستان انہی لوگوں کی جدوجہد اور کاوشوں کی وجہ سے قائم ہے انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کے "ذمیندار اخبار" کو آج کے سوشل میڈیا سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کیونکہ یہی اخبار تھا جو مسلمانوں کا لہو گرم ماتا تھا اور جس نے مسلمانوں کو آزادی کی راہوں کی طرف گامزن کیا۔ محترم سلمان غنی نے کہا کہ ظفر علی خان ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام تھے کیونکہ عوام الناس اور نوجوانوں میں ولولہ اور تحریک پیدا کرنے والوں میں ایک بڑا نام مولانا ظفر علی خان کا تھا وہ ایک بامقصد صحافی تھے جب برصغیر پاک و ہند کی تاریخ لکھی جائے گی اور جب پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کا ذکر ہوگا تو ظفر علی خان کا ذکر ضرور ہوگا۔آخر میں چیئرمین خالد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی ذات شخصیت اور کردار کے بارے میں اتنی اچھی اچھی باتیں ہو چکی ہیں لیکن میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان سارے سیمینارز ،کاوشوں اور اجتماعات کا نتیجہ نکلنا چاہیے ان کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی عظیم شخصیت کی کاوشوں محنتوں اور قربانیوں کے بارے میں ہم سنتے ہیں تو یہ تمام باتیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیں کہ اگر وہ عظیم لوگ اتنا کچھ کر گئے تو اب ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے مثال کے طور پر ہر طالب علم کو یہ دیکھنا چاہیے کہ جس طرح مولانا نے تحصیل علم کی کیا وہ بھی اسی توجہ سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ہر صحافی کو سوچنا چاہیے کہ مولانا کا جو کردار ہمارے سامنے لایا گیا ہے کیا ہم اس کردار پر پورے اترتے ہیں یا اگر پورے نہیں بھی اترتے تو کم سے کم اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں؟ ہر سیاست دان کو سوچنا چاہیے کہ مولانا نے جس طرح اصولوں پر چلتے ہوئے انگریز کی غلامی سے نجات پانے کی تدبیریں کیں کیا ہم بھی ان اصولوں پر گامزن ہیں یا نہیں؟ آج کل جیسے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے کیا ہم اس کے خلاف کوئی آواز اٹھا رہے ہیں یا کوئی احتجاج کر رہے ہیں یا نہیں ؟عظیم شخصیات کے کارناموں اور جدوجہد کو سننے کے بعد اگر صرف تعریف کر دی جائے یا عمل نہ کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو جگایا جائے کہ ہمارے فرائض کیا ہیں پاکستان تعمیر تو ہو گیا ہے لیکن اب یہ پاکستان ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنی کاوشوں سے اسے ایک ایسا پاکستان بنائیں کہ وہ ساری دنیا میں ایک مثال بن کر ابھرے۔ سیمینار کے اختتام پر سید حسن بانی و چیف ایگزیکٹو پی ایس ٹی وی میڈیا نیٹ ورک اور میڈیا مینجر ظفر علی خان فاؤنڈیشن نے میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کے طلبہ اور اساتذہ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔