گولڈ18‘چاندی5 اور کانسی کے3تمغے حاصل کرچکا ہوں پاور لفٹر حسنین رضا

بچپن سے باڈی بلڈنگ کا شوق تھا ‘جماعت ہشتم  سے  جم جانا شروع کر دیا  تھا‘پہلا گولڈ میڈل 26سال کی عمر میں جیتنے میں کامیاب ہوا
کولمبو میں ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپین شپ میں  متعدد پاور لفٹرز نے حصہ لیا ‘اللہ تعالی نے  مجھے کامیابی دی‘یہ میڈل جدوجہد، قربانی اور یقین کی علامت ہے
میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ‘حال ہی میں میرے بچوں نے  قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہونے والے سکول سپورٹس گالا میں 4گولڈ میڈل حاصل کئے
 ویٹ لفٹنگ روز بروز مہنگا شوق بنتا جا رہا ہے‘ حکومت سے اپیل ہے اس جانب توجہ دی جائے:ورلڈ پاور لفٹنگ گولڈ میڈلسٹ کا روزنامہ’’حریف‘‘کو انٹرویو
لاہور(انٹرویو: شہزاد  راجپوت) الحمدللہ یہ کامیابی برسوں کی محنت، صبر اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ملک کے لیے ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپین شپ کولمبو میں گولڈ میڈل جیتنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ابتدا میں مجھے فٹنس کا شوق تھا بعد ازاں مسلسل محنت اور کوچ کی رہنمائی نے مجھے پیشہ ور پاور لفٹنگ کی طرف راغب کیا۔ وسائل کی کمی، مالی مسائل اور انجریز بڑے چیلنجز تھے مگر ہمت نہیں ہاری اور ثابت قدمی سے آگے بڑھتا رہا۔ان خیالات کا اظہارورلڈ پاور لفٹنگ گولڈ میڈلسٹ حسنین رضا نے ’’روزنامہ حریف‘‘ سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔24ستمبر 1980 کواندرون لاہور موچی گیٹ میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم موچی گیٹ سے ہی حاصل کی اور بعد ازاں بیکن ہائوس سکول سسٹم میں تعلیم مکمل کی۔بچپن سے باڈی بلڈنگ کا شوق تھا اور ہشتم جماعت سے جان سٹی جم جانا شروع کر دیا اور عہد کیا تھا  ایک روز اپنے پیارے ملک کا نام روشن کروں گا۔پہلا گولڈ میڈل 26سال کی عمر میں لینے میں کامیاب ہوا۔اپنے کیرئیر کے دوران گولڈ کے 18،چاندی کے05اور کانسی کے 03تمغے حاصل کر چکا ہوں۔حال ہی میں ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپین شپ2025جو کہ سری لنکا کے شہر کولمبو میں منعقد کی گئی تھی۔اس مین دنیا بھر سے متعدد پاور لفٹرز نے حصہ لیا مگر اللہ تعالی نے کامیابی کو میرا مقدر بنایا۔یہ میڈل جدوجہد، قربانی اور یقین کی علامت ہے۔ یہ صرف میری نہیں بلکہ میرے کوچ، والدین اور تمام پاکستانیوں کی کامیابی ہے۔  میرے خاندان کی حمایت میرے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔انہوں نے بتایا  میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔حال ہی میں میرے بچوں نے  قذافی سٹیڈیم میں سکول سپورٹس گالا میں 04گولڈ میڈل حاصل کیے۔آپ بہت جلد ان کو بھی میری طرح عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے دیکھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا  اپنی فٹنس کو قائم رکھنے کے لیے روزانہ چار سے چھ گھنٹے ٹریننگ کرتا ہوں ۔ جس میں اسٹرینتھ، ٹیکنیک، ڈائٹ اور ریکوری پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جبکہ خواراک میں خشک میوہ جات،مچھلی،بکرے کا گوشت،انڈے،دودھ،ملٹی ویٹامن اور پروٹین وغیرہ شامل ہیں۔ میرا ہدف عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اور مزید میڈلز حاصل کرنا ہے، ساتھ ہی نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ محنت، نظم و ضبط اور صبر کو اپنا شعار بنائیں۔ کامیابی ضرور ملتی ہے، بس مستقل مزاجی شرط ہے۔حسنین رضا نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتے ہوئے کہا  ویٹ لفٹنگ روز بروز مہنگا شوق بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی اداروں کی  جانب سے توجہ درکار ہے تاکہ ہم پاکستان کی نمائندگی کے لیے بیرون ممالک کے اخراجات اور مقابلوں کی تیاری بھر پور طریقے سے کر سکیں۔