پاکستان بھر کے تھوک اور ریٹیل پھل اور سبزی مارکیٹوں میں آج رسد میں اتار چڑھاؤ اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے۔
پنجاب اور سندھ میں گزشتہ ہفتے غیر موسمی بارشوں نے ٹماٹر اور پالک جیسی تازہ پیداوار کی رسد میں تاخیر کی، جس سے عارضی قلت پیدا ہوئی۔ تاہم، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے آلو، پیاز اور کینو کی زیادہ مقدار نے ان اشیا کی قیمتوں کو مستحکم رکھا۔ تاجروں کے مطابق، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 10-15% اضافے نے قیمتوں پر اثر ڈالا۔
پھلوں کی قیمتیں (فی کلو)
کراچی:
سیب (بلوچی): 280–320 روپے
کیلا: 130–160 روپے
کینو: 100–120 روپے
آم (ابتدائی اقسام): 600–800 روپے (محدود مقدار)
انگور (درآمدی): 900–1,200 روپے
لاہور:
سیب: 250–300 روپے
کیلا: 120–140 روپے
کینو: 80–100 روپے
سٹرابیری: 400–500 روپے
امرود: 150–180 روپے
اسلام آباد/راولپنڈی:
انار: 500–600 روپے
مالٹا: 150–200 روپے
پپیتا: 200–250 روپے
چیری (درآمدی): 1,500–2,000 روپے
سبزیوں کی قیمتیں (فی کلو)
کراچی:
ٹماٹر: 120–150 روپے (رسد کم)
پیاز: 90–110 روپے
آلو: 60–80 روپے
پالک: 200–240 روپے
گوبھی: 100–130 روپے
لاہور:
ٹماٹر: 100–120 روپے
پیاز: 70–90 روپے
بھنڈی: 180–220 روپے
کریلا: 150–180 روپے
گاجر: 50–70 روپے
پشاور اور کوئٹہ:
آلو: 50–60 روپے (رسد زیادہ)
بینگن: 80–100 روپے
مٹر: 300–350 روپے
لہسن: 300–400 روپے
ماہرین کی رائے
فیصل آباد یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے زرعی ماہر معاشیات ڈاکٹر علی رضا کا کہنا ہے، "ٹماٹر اور ہری سبزیوں کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ عارضی ہے۔ سندھ کے کاشتکار اگلے ہفتے تک رسد بڑھانے کے امیدوار ہیں۔ تاہم، گرمیوں کی مکمل فصل آنے تک آم اور انگور کی قیمتیں زیادہ رہیں گی۔" انہوں نے موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کے لیے "کلائمیٹ ریزیلیئنٹ فصلیں" اگانے پر زور دیا۔
خریداروں کے لیے تجاویز
موسمی اشیا خریدیں: کینو، سٹرابیری، اور پالک اس ہفتے معقول قیمتوں پر دستیاب ہیں۔
مارکیٹس کا موازنہ کریں: لاہور کی اکبری منڈی جیسی تھوک مارکیٹوں میں ٹماٹر ریٹیل سے 20–30 روپے سستے ملتے ہیں۔
شام کو ڈسکاؤنٹس: کراچی سبزی منڈی میں تاجر اکثر 3 بجے کے بعد اشیا 10–15% سستے داموں بیچتے ہیں۔
مستقبل کی پیشین گوئیاں
ٹماٹر کی قیمتیں: 20 اپریل کے بعد سندھ سے نئی فصل آنے پر 25% تک گر سکتی ہیں۔
آم کا سیزن: جون میں سندھ کے "سندھڑی" اور پنجاب کے "چونسا" آم مارکیٹوں میں آتے ہی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔
گندم کا اثر: گندم کی قیمتوں (3,000 روپے فی 40 کلو) میں اضافہ آنے والے مہینوں میں سبزیوں کی کاشت کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔