لبنان نے ڈزنی کی لائیو ایکشن فلم سنو وائٹ (Snow White) پر پابندی لگا دی ہے، جس کی بنیاد اسرائیلی اداکارہ گال گیڈٹ کی کاسٹنگ پر ہے۔
یہ فیصلہ لبنان کے وزیرِ داخلہ احمد الحجّار نے کیا، اور اس کی وجہ اسرائیلی فوج کی لبنان میں حزب اللّٰہ کے خلاف حالیہ کارروائیوں اور ان حملوں میں عام شہریوں کے متاثر ہونے کے واقعات ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فنکاروں اور اسرائیل سے جڑے مواد پر پابندی لگانے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، اور یہ فیصلہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اسرائیلی اداکارہ گال گیڈٹ کی کاسٹنگ:
گال گیڈٹ، جو کہ معروف اسرائیلی اداکارہ ہیں، فلم سنو وائٹ میں ایول کوئن (شیطان ملکہ) کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی کاسٹنگ پر لبنان میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ گال گیڈٹ اسرائیل کی ایک معروف شخصیت ہیں، اور اس کے علاوہ وہ اسرائیلی فوج کی سابقہ رکن بھی ہیں، جس کی وجہ سے لبنان میں ان کی موجودگی پر مزید تنقید کی جارہی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیاسی اور فوجی کشیدگی کی وجہ سے لبنان میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوع کے تعلقات یا اس سے جڑے افراد کی حمایت کو ملک میں منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
لبنان میں پابندی کا پس منظر:
لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہمیشہ سے رہی ہے، خصوصاً 2006 کی لبنان اسرائیل جنگ کے بعد سے۔ لبنان میں حزب اللّٰہ کے اسرائیل کے ساتھ مستقل تصادم میں ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت زیادہ کشیدہ ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں اور ان کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے لبنان کے عوام میں اسرائیل کے بارے میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر لبنان نے اپنے قومی مفادات اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح کی فلموں اور ان کے کرداروں کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائی ہے۔ خاص طور پر اسرائیلی فنکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ثقافتی تعلقات کو محدود کرنا اور لبنان کے عوامی جذبات کا تحفظ کرنا ہے۔
لبنان کی ماضی کی پالیسی:
لبنان ماضی میں بھی ایسے اقدامات اٹھا چکا ہے، جیسے کہ اسرائیلی فنکاروں کے کام پر پابندی عائد کرنا یا اسرائیلی جھنڈے اور علامتوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی مواد کو ممنوع قرار دینا۔ لبنان کی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اسرائیلی مواد یا فنکاروں کا استقبال کرنے سے نہ صرف ملک کی داخلی سیاست پر منفی اثرات پڑتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اس کا شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔
عالمی ردعمل:
لبنان کی جانب سے اس فلم پر پابندی کی عالمی سطح پر بھی کچھ سطح پر تنقید ہو رہی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس پابندی سے لبنان کے ثقافتی آزادیاں متاثر ہو سکتی ہیں، اور یہ اقدام ایک غیر ضروری تنازعے کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم، لبنان کے حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ان کے ملک کی سیاست اور عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے، اور اس کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
نتیجہ:
لبنان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی کے پیش نظر، یہ فیصلہ لبنان کے داخلی اور خارجی سیاست میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ لبنان کی حکومت نے اس پابندی کو اپنے عوامی مفادات کی حفاظت کے طور پر پیش کیا ہے، اور اس کا مقصد اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ثقافتی مواد سے لبنان کے شہریوں کو دور رکھنا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، ممکنہ طور پر دیگر عرب ممالک میں بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، جہاں اسرائیل کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں۔