علی احمد
غیور،بہادراورکامیاب قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں اوراوج ثریاکووہی چھوتی ہیں جومشکلات کاڈٹ کرمقابلہ کرتی ہیں۔عصرحاضر میں دْنیامیں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک یامعاشرے ہیں اِن کی تاریخ کابغورمطالعہ کیاجائے تواِن پرمشکلات اور مصائب کے کئی پہاڑٹوٹے۔لیکن۔اِن قوموں نے ثابت قدمی سے نہ صرف اِن حالات کامقابلہ کیابلکہ یکجہتی کی بدولت ہی آج بام عروج پرہیں۔پاکستان کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توپاکستان کوئی ایک دِن میں نہیں بنا۔پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کاخون شامل ہے جبکہ بانیان پاکستان کی دہائیوں کی محنت،ثابت قدمی اور یکجہتی شامل ہے جس کی بدولت آج پاکستان نہ صرف اْمت مسلمہ کاقلع ہے بلکہ دْنیامیں ایک نئی پہچان کیساتھ اْبھررہاہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اورایران،امریکہ جنگ کے بعدنہ صرف خطہ بلکہ دْنیاکی بڑی بڑی معیشتیں ہچکولے کھارہی ہیں۔اپنے آب کونام نہادچوتھی بڑی معیشت والاملک بھارت میں بھی مہنگائی عروج پرہے۔ایل این جی کی قیمتیں آسماں کوچھورہی ہیں اورعوام سڑکوں پرقطاروں میں کھڑے ہیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ تمام ترسیاسی،ذاتی اختلافات کوپس پشت ڈال کرحقائق پرمبنی تجزیہ کیاجائے توپاکستان کی جمہوری حکومت تمام ترمعاملات انتہائی خوش اسلوبی سے چلارہی ہے۔خطہ میں کشیدگی کے باجودوزیراعظم محمدشہبازشریف کی سربراہی میں اِن کی ٹیم بھرپورکام کررہی ہے۔تیل کی قیمتیں صرف ہمارے خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دْنیااورعالمی منڈی میں بھی بڑھ چکی ہیں اور روزانہ کی بنیادپربڑھ رہی ہیں۔اِس حوالے سے گزشتہ روزحکومت پاکستان نے انتہائی اہم اعلان کرتے ہوئے قوم کواہم خوشخبری سنائی ہے۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف نے شہریوں کو پیٹرول ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی اسکیم کا اجرا کردیا ہے جس کے تحت 2 ویلر، 3 ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔ 2 ویلر کے لیے 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑی کے لیے 30 لیٹر پیٹرول پر ریلیف دیا جائے گا۔اِس سکیم میں 15 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اہل ہوں گی۔حکومت نے اسکیم میں توازن رکھا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے فائدہ اٹھا سکیں، 800 سی سی تک کی گاڑیاں ملک کی 50 فیصد گاڑیوں کو کور کرتی ہیں اور 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں اس اسکیم سے مستفید ہوں گی۔پیٹرول ریلیف پروگرام 2 حصوں میں تقسیم ہے، پہلے مرحلے میں شہریوں کو رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم اور شناختی کارڈ کا میچ ہونا ضروری ہے۔اِس کے بعدشہری کو اسی سم سے اپنا سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہوگا، اس کے بعد بائیک یا گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، رجسٹریشن کا صوبہ اور دیگر مطلوبہ تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔سکیم کیلئے گاڑی یا بائیک کی رجسٹریشن کی تاریخ بھی ضروری ہے اور متعلقہ کاغذات شہری کے پاس موجود ہونا لازمی ہیں۔اِس سکیم میں انتہائی حوصلہ افزاء اقدام یہ ہے کہ معلومات میں کمی کی صورت میں شہری کو پیغام کے ذریعے بتایا جائے گا کہ کون سی معلومات نامکمل ہیں اور رجسٹریشن کا عمل صرف ایک مرتبہ کرنا ہوگا۔جس نمبر سے پیغام بھیجا جائے گا وہ صارف کے اپنے نام پر ہونا چاہیے جبکہ گاڑی یا بائیک کی رجسٹریشن کا صوبہ اور رجسٹریشن نمبر بھی ضروری ہوگا۔‘گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا اور شہری پٹرول پمپ پر ٹوکن دکھا کر پیٹرول حاصل کرسکیں گے، جبکہ رجسٹریشن کے بعد پیٹرول لینے کے وقت 9771 پر TOK لکھ کر پیغام بھیجنا ہوگا۔ اس پورے معاملے کی تفصیل ایک سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی جبکہ پٹرول پمپ مالکان کے لیے الگ ہیلپ لائن بھی بنادی گئی ہے۔سکیم پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مجسٹریٹس کو پٹرول پمپس پر نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اور اس نظام کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کردیاگیاہے۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف نہ صرف روزانہ کی بنیادپراِس حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں بلکہ اِس سکیم کے حوالے سے وزارت خزانہ،وزارت پیٹرولیم،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی روزانہ کی بنیادپروزیر اعظم کورپورٹ پیش کرے گی۔پیٹرول ریلیف سکیم پاکستانی عوام کومشکل وقت میں نہ صرف سہاراہے بلکہ دیکھاجائے توجہاں پوری دْنیامیں تیل کے حوالے سے مسائل چل رہے ہیں وہیں حکومت پاکستان کی جانب سے اِس سکیم کااجراء انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔یہ ریلیف ان لوگوں کے لیے ہے جن پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔اْمید واثق ہے کہ پیٹرول ریلیف سکیم سے عام آدمی بھرپور مستفید ہوگا۔