واشنگٹن (آئی این پی ) جنرل آف دی روئل سوسائٹی رپورٹ اور یونیورسٹی آف سینٹ ایٹین یونیورسٹی کے محققین کے مطابق بچوں کے رونے، خاص طور پر درد سے رونے کی آوازیں بالغوں کے چہرے کا درجہ حرارت بڑھا سکتے ہیں اور ہمارے جسم کو فوری طور پر متحرک کر سکتے ہیں، چاہے ہم اس پر سوچ بھی نہ رہے ہوں۔ بچے کے رونے میں صرف شور نہیں بلکہ ایک انتہائی طاقتور پیغام ہیں، زبان کے بغیر، یہ ننھے معصوم اپنی ضرورت اور تکلیف بتانے کے لیے چیختے ہیں اور جب وہ واقعی درد میں ہوتے ہیں، تو ان کی آواز میں پیدا ہونے والے نان لینیئر فینومینا (NLP) یعنی کھردری، غیر متوقع اور اتار چڑھا والی آوازیں بالغوں کی توجہ فورا اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ محققین نے 41 بالغ افراد کو 23 مختلف بچوں کے رونے کی حقیقی آوازیں سنائی گئیں، جو نہانے یا ویکسین لگوانے کے دوران ریکارڈ کیے گئے تھے۔