ہالی ووڈ کے آسکر یافتہ ڈائریکٹر رابرٹ بینٹن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ہالی ووڈ کے آسکر یافتہ ڈائریکٹر رابرٹ بینٹن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ویب ڈیسک: ہالی ووڈ کے مایہ ناز اور آسکر ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر، مصنف اور اسکرین رائٹر رابرٹ بینٹن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

 ان کی موت کی تصدیق ان کی اسسٹنٹ منیجر ماریسا فورینزو نے امریکی جریدے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کی۔

 کریمر ورسز کریمر سے شہرت کی بلندیوں تک
رابرٹ بینٹن کو عالمی شہرت 1979 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم "کریمر ورسز کریمر" سے حاصل ہوئی، جس نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) میں بھی پانچ کیٹیگریز میں کامیابی حاصل کی۔ ان میں:

بہترین فلم
بہترین ہدایت کار (رابرٹ بینٹن)
بہترین اداکار (ڈسٹن ہوفمین)
بہترین معاون اداکارہ (میریل اسٹریپ)
بہترین اسکرین پلے (رابرٹ بینٹن)
یہ فلم نہ صرف والدین کے درمیان بچوں کی تحویل جیسے حساس موضوع پر مبنی تھی بلکہ اس نے عدالتوں میں خاندانی قوانین پر نئی بحث بھی چھیڑ دی۔

 1984 میں ایک اور آسکر ایوارڈ
بینٹن کو 1984 میں ایک اور آسکر ایوارڈ ان کی فلم "پلیسز اِن دی ہارٹ" (Places in the Heart) کے لیے ملا، جو امریکہ کے دیہی معاشرے اور نسلی امتیاز پر مبنی ایک طاقتور فلم تھی۔ ان کا اسکرپٹ اور ہدایت کاری دونوں کو زبردست سراہا گیا۔

 فنی سفر کا آغاز اور دیگر کامیابیاں
رابرٹ بینٹن نے کیریئر کا آغاز 1967 میں مشہور فلم "بونی اینڈ کلائیڈ" سے کیا، جسے انہوں نے کو-رائٹ کیا۔ یہ فلم آج بھی کلاسک گینگسٹر فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
1978 میں انہوں نے "سپرمین" کے ابتدائی کرداروں کی تشکیل میں بھی حصہ لیا، جس نے انہیں مرکزی فلمی حلقوں میں مزید مستحکم کیا۔
 فلمی خدمات کا اعتراف
رابرٹ بینٹن کو ہالی ووڈ کی فلمی صنعت میں ان کے تخلیقی وژن، حساس موضوعات کے انتخاب اور جاندار کردار نگاری کے باعث ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ ان کے انتقال پر فلمی حلقوں، مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے گہرے دکھ اور خراج عقیدت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 یادگار ورثہ
رابرٹ بینٹن کی فلمیں آج بھی فلمی تعلیمی اداروں اور سینما شائقین کے لیے مطالعہ اور تقلید کا ذریعہ ہیں۔ ان کا فنی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔