اسلام آباد : سینیٹ میں قائد ایوان، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور میزائل سسٹم خالصتاً ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے ہے، اسے متنازع بنانے یا غلط انداز میں پیش کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔
ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مختلف پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور جعلی معلومات کا سیلاب آیا ہے، جس پر احتیاط برتنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے بنایا گیا جعلی ویڈیو کلپ تھا۔انہوں نے کہا کہ 13 جون کے بعد ایران-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں کئی پرانی اور جعلی خبریں گردش کر رہی ہیں، جن میں نیتن یاہو کا 2011 کا انٹرویو بھی شامل ہے جسے حالیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کسی مذاق یا افواہ کی متحمل نہیں ہو سکتی، یہ ایک سنجیدہ نوعیت کی جنگی صورت حال ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں رہے اور ایران نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز یونٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، اور زائرین کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 500 سے زائد زائرین کی رہنمائی اور حفاظت کی جا چکی ہے۔وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں فیک نیوز سے ہوشیار رہنا اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر غلط اطلاعات جنگ کے ماحول کو مزید خطرناک بنا سکتی ہیں، اس لیے محتاط رویہ اختیار کیا جائے۔