عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ، حکومت کو ہنگامی مراسلہ

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ، حکومت کو ہنگامی مراسلہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی پیٹرول کی قلت کے خدشات کے پیش نظر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے حکومت کو ہنگامی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں حالیہ کارروائی کے بعد سرمایہ کاروں میں تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافے کے بعد یہ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ حملوں اور وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث رواں ہفتے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ برقرار رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

دریں اثنا آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی وزیر پیٹرولیم کو ہنگامی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ملک میں پیٹرول بحران کے خدشے سے آگاہ کیا ہے اور فوری حکومتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

او سی اے سی کے مطابق اس وقت ملک میں صرف 15 روز کا پیٹرول ذخیرہ موجود ہے، جبکہ ویبوک سسٹم کے ذریعے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر کے باعث سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ بالخصوص اپ کنٹری علاقوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

کونسل نے مزید بتایا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا درآمدی کارگو بروقت منظور نہ ہونے سے سپلائی چین مزید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ او سی اے سی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کمپنیوں کے 66 ارب 70 کروڑ روپے کے زیر التوا واجبات اور پی ڈی سی کلیمز فوری طور پر ادا کیے جائیں تاکہ درآمدات کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔

مراسلے میں ویبوک سسٹم کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے اور پیٹرولیم درآمدات کے لیے مالی ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ او سی اے سی نے خبردار کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور ملک بھر میں سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قلت کے باعث فروخت عارضی طور پر بند ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔